شمالی امریکہ کی سب سے بڑی نمائش میں پاکستان پویلین کا شاندار افتتاح: کینیڈا کو برآمدات بڑھانے کے لیے اہم سنگِ میل
مونٹریال / کراچی (علیم نواب خان سے) | 30 اپریل 2026
کینیڈا کے شہر مونٹریال میں منعقدہ "سیال کینیڈا 2026" (SIAL Canada) فوڈ پروڈکٹس نمائش میں پاکستانی مصنوعات نے عالمی خریداروں اور شرکاء کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ شمالی امریکہ کے خطے کی اس سب سے بڑی فوڈ اینڈ بیوریج نمائش میں پاکستان کی متنوع اور اعلیٰ معیار کی غذائی مصنوعات کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، جو کہ ملکی برآمدات کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔
پاکستان پویلین کا باقاعدہ افتتاح اور شرکاء
نمائش میں قائم کردہ پاکستان پویلین کا باقاعدہ افتتاح کینیڈا میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر محمد سلیم نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایسی عالمی نمائشوں میں شرکت سے پاکستانی مصنوعات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں پہچان بڑھتی ہے۔ نمائش میں پاکستان کی جانب سے 6 نمایاں نمائش کنندگان (Exhibitors) شرکت کر رہے ہیں، جو اپنی بہترین غذائی مصنوعات کے اسٹالز کے ساتھ وہاں موجود ہیں۔
اعلیٰ حکام کا دورہ اور سفارتی کوششیں
افتتاحی تقریب کے بعد ہائی کمشنر محمد سلیم، قونصل جنرل فیصل ابرو اور ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر الطمش جنجوعہ نے کینیڈین وفاقی حکومت اور کیوبیک حکومت کے معززین سمیت نجی شعبے کے نمائندگان کو پاکستان پویلین کا دورہ کرایا۔ معزز مہمانوں کو مختلف اسٹالز پر پیش کی گئی مصنوعات کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جنہوں نے پاکستانی فوڈ انڈسٹری کے معیار کو بے حد سراہا۔
تین روزہ نمائش: برآمدات میں اضافے کا ہدف
یہ تین روزہ نمائش 29 اپریل سے یکم مئی 2026 تک جاری رہے گی۔ اس نمائش میں پاکستان کی بھرپور شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ حکومت اور برآمد کنندگان کینیڈا کو غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستانی باسمتی چاول، مصالحہ جات، پروسیسڈ فوڈ اور منجمد مصنوعات خریداروں کے لیے خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
بین الاقوامی خریداروں سے رابطے کا پلیٹ فارم
سیال کینیڈا نے پاکستانی برآمد کنندگان کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ بین الاقوامی خریداروں اور ایگری فوڈ انڈسٹری کے بڑے اسٹیک ہولڈرز سے براہِ راست رابطے کر سکتے ہیں۔ اس ایونٹ کے نتیجے میں نئے تجارتی معاہدات متوقع ہیں، جس سے نہ صرف کینیڈا بلکہ پورے شمالی امریکہ میں پاکستانی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوگا اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے گا۔

Comments
Post a Comment