65 ملین ڈالر کے ایڈز پروگرام کے فنڈز کا بڑا حصہ این جی اوز کو جاری، ہزاروں مریض لاپتہ: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا انکشاف
اسلام آباد ویب ڈیسک | 30 اپریل 2026
پاکستان میں ایڈز (HIV/AIDS) کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے حکومتی ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ملک میں رجسٹرڈ ایڈز کیسز کی کل تعداد 84 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں سے صرف 61 ہزار افراد ایسے ہیں جو طبی مراکز سے علاج کروا رہے ہیں، جبکہ باقی مریضوں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے، جو کہ معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایڈز پروگرام کے فنڈز اور این جی اوز کا کردار
وفاقی وزیرِ صحت نے ایڈز کی روک تھام کے لیے مختص مالیاتی فنڈز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 65 ملین ڈالر کا ایڈز پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ اس بھاری رقم میں سے 61.1 ملین ڈالر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) اور "نئی زندگی" نامی غیر سرکاری تنظیم (NGO) کو جاری کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اتنی بڑی رقم این جی اوز کو دینے کا مقصد فیلڈ لیول پر ایڈز کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرنا ہے۔
اسکریننگ کے اعداد و شمار اور مثبت کیسز کی شرح
وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق، سال 2020 کے دوران ملک بھر کے مختلف شہروں میں قائم 49 مراکز پر شہریوں کی اسکریننگ کا عمل جاری رہا۔
اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 37 ہزار 944 شہریوں کے ٹیسٹ کیے گئے۔
ٹیسٹ کے نتائج میں 6 ہزار 910 کیسز مثبت پائے گئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایڈز کی اسکریننگ کروانے والوں میں مثبت کیسز کی شرح خاصی بلند ہے، جو کہ صحتِ عامہ کے حوالے سے ایک چیلنجنگ صورتحال ہے۔
لاپتہ مریض: معاشرے کے لیے ایک خاموش خطرہ
رپورٹ کے مطابق، رجسٹرڈ 84 ہزار مریضوں میں سے 23 ہزار ایسے ہیں جو ابھی تک علاج کے دائرہ کار میں نہیں آ سکے ہیں۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ایسے مریض جو اس مرض میں مبتلا ہیں لیکن زیرِ علاج نہیں یا جن کا سراغ نہیں مل رہا، وہ نادانستہ طور پر اس وائرس کو دوسروں تک منتقل کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ حکومت کا اب اولین ہدف ان تمام رجسٹرڈ مریضوں تک رسائی حاصل کرنا ہے جو علاج سے دور ہیں۔
حکومت کے اگلے اقدامات اور عوام کے لیے مشورہ
وفاقی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ حکومت ایڈز کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایڈز سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی شک کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسکریننگ سینٹر سے رابطہ کریں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایڈز کے علاج کے مراکز میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہر مریض کو مفت ادویات اور طبی سہولیات باآسانی میسر ہوں۔

Comments
Post a Comment