زیب النساء اسٹریٹ پر صبح سویرے واردات، چوکیدار کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر تجوری نکلوائی گئی: پولیس رپورٹ
کراچی ویب ڈیسک | 29 اپریل 2026
کراچی کا دل کہلانے والے علاقے صدر میں واقع زیب النساء اسٹریٹ پر ایک بار پھر جرائم پیشہ عناصر نے امن و امان کی صورتحال کو چیلنج کر دیا ہے۔ بدھ کی صبح ایک معروف جیولری شاپ پر چوری کی انوکھی اور دلیرانہ واردات پیش آئی ہے جہاں ملزمان دکان کا شٹر کاٹ کر اندر داخل ہوئے اور پوری تجوری ہی اٹھا کر فرار ہو گئے۔ اس واقعے نے علاقے کے تاجروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
واردات کی تفصیلات: کٹر کا استعمال اور چوکیدار کو یرغمال بنانا
پولیس کے فراہم کردہ ابتدائی بیان کے مطابق، یہ واقعہ صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے پیش آیا۔ دو مسلح ملزمان موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آئے اور دکان کے باہر پہنچ کر کٹر کے ذریعے شٹر کاٹنے لگے۔ اسی دوران وہاں تعینات چوکیدار موقع پر پہنچ گیا، لیکن ملزمان نے فوراً اس پر اسلحہ تان لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے چوکیدار کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ ملایا اور مبینہ طور پر اس کی مدد سے دکان کے اندر موجود وزنی تجوری باہر نکلوائی۔ حیرت انگیز طور پر، ملزمان نے چوکیدار کو رقم دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن واردات مکمل ہوتے ہی اسے ایک روپیہ دیے بغیر تجوری لے کر فرار ہو گئے۔
وزیرِ داخلہ سندھ کا نوٹس اور اعلیٰ حکام کی ہدایت
صوبائی وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے صدر میں جیولری شاپ پر ہونے والی اس سنگین واردات کا سخت نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے پولیس حکام کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ملزمان کا سراغ لگانے اور ان کی فوری گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر جدید سائنسی تکنیکوں کا استعمال کیا جائے تاکہ تاجر برادری کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے۔
ایس ایس پی ساؤتھ کی بریفنگ اور موجودہ صورتحال
ایس ایس پی ساؤتھ مہروز علی نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کی فرانزک اور انویسٹی گیشن ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں اور تمام ممکنہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ صراف (دکان دار) کی جانب سے تاحال چوری شدہ سونے اور دیگر قیمتی زیورات کی اصل مالیت کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکا۔ پولیس کے مطابق، واقعے کی ایف آئی آر (FIR) درج کروانے کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، تاہم پولیس نے اپنے طور پر تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
تاجر برادری میں تشویش کی لہر
صدر اور زیب النساء اسٹریٹ کراچی کے سب سے زیادہ گنجان اور تجارتی مراکز مانے جاتے ہیں جہاں ہر وقت سیکیورٹی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ صبح سویرے ہونے والی اس واردات نے پولیس کی پیٹرولنگ اور سیکیورٹی پلان پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ صرافہ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس نہ صرف ملزمان کو گرفتار کرے بلکہ چوری شدہ مال کی واپسی کو بھی یقینی بنائے۔

Comments
Post a Comment