منی لانڈرنگ کیس میں بڑی پیش رفت: چیئرمین نیب کا اعلان، ملک ریاض اور ان کے بیٹے کی جلد گرفتاری کا دعویٰ
اسلام آباد / کراچی ویب ڈیسک | 29 اپریل 2026
پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت اور بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے گرد قانون کا گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین نیب نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان ملک ریاض اور علی ریاض ملک کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ (Red Warrants) جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت نے ملک کے سیاسی اور کاروباری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
چیئرمین نیب کا اہم بیان اور کارروائی کی تفصیلات
چیئرمین نیب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کافی عرصے سے منی لانڈرنگ کے سنگین مقدمات میں مطلوب ہیں اور عدالتوں کی جانب سے انہیں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیب نے وفاقی حکومت کے ذریعے انٹرپول سے رابطہ کیا ہے تاکہ ان ملزمان کو بیرونِ ملک سے گرفتار کر کے پاکستان لایا جا سکے۔ چیئرمین نیب کا دعویٰ ہے کہ "دونوں ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے"۔
منی لانڈرنگ کیس کا پس منظر
ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ پر طویل عرصے سے اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ اور زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے الزامات عائد ہیں۔ نیب کی تحقیقات کے مطابق، ان ملزمان نے مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ رقم بیرونِ ملک منتقل کی، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ بارہا طلبی کے باوجود ملزمان نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے، جس کے بعد عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دیا۔ اب ریڈ وارنٹ کا اجراء اس کیس میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
انٹرپول کے ریڈ وارنٹ کیا ہیں؟
ریڈ وارنٹ انٹرپول کی جانب سے جاری کردہ ایک بین الاقوامی الرٹ ہے جس کا مقصد دنیا بھر کی پولیس کو کسی مطلوب ملزم کی شناخت اور اس کی عارضی گرفتاری کے لیے مطلع کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس کی حوالگی کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔ ملک ریاض اور علی ریاض ملک کے ریڈ وارنٹ جاری ہونے کا مطلب ہے کہ اب وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں محفوظ نہیں رہیں گے اور انٹرپول کے رکن ممالک کی پولیس انہیں گرفتار کرنے کی پابند ہوگی۔
بحریہ ٹاؤن کراچی اور متاثرین کی صورتحال
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحریہ ٹاؤن کراچی سمیت مختلف منصوبوں کے متاثرین بھی اپنے مطالبات کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ ملک ریاض کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی شروع ہونے سے ان کیسز پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریڈ وارنٹ کے بعد اب ملزمان کے پاس قانونی راستے محدود ہو گئے ہیں اور انہیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالتوں کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔
مستقبل کی صورتحال: گرفتاری کب ممکن ہے؟
چیئرمین نیب نے پرعزم انداز میں کہا ہے کہ دونوں ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ اب گیند انٹرپول اور ان ممالک کے کورٹ میں ہے جہاں ملزمان اس وقت مقیم ہیں۔ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کی بنیاد پر انٹرپول اپنی کارروائی کا آغاز کراکرے گا۔ کراچی اپ ڈیٹس 24 اس اہم ترین کیس کی پل پل کی خبر اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔

Comments
Post a Comment