کراچی میں دلخراش واقعہ: گرمی سے بچنے کے لیے ٹرالر کے نیچے سونے والے 2 محنت کش نوجوان کچلے گئے
لانڈھی اسپتال چورنگی کے قریب افسوسناک حادثہ، خوشاب اور سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے نوجوان جاں بحق، ڈرائیور فرار
کراچی ویب ڈیسک | 29 اپریل 2026
شہرِ قائد کے علاقے لانڈھی میں ایک ایسا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جس نے سننے والوں کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ تپتی دھوپ اور شدید گرمی سے بچنے کی کوشش دو نوجوان محنت کشوں کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوئی۔ قائد آباد تھانے کی حدود میں واقع لانڈھی اسپتال چورنگی اور یونس چورنگی کے درمیان، ایک معروف ٹائر کمپنی کے سامنے آرام کی غرض سے ٹرالر کے نیچے لیٹنے والے دو نوجوان ٹرالر تلے دب کر جاں بحق ہو گئے۔
حادثے کی تفصیلات اور جاں بحق نوجوانوں کی شناخت
رپورٹ کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو نوجوان، جن کی شناخت محمد ارشد ولد فضل الرحمان اور ضمیر ولد نواب کے ناموں سے ہوئی ہے، ٹرالر کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئے۔ جاں بحق ہونے والے ان نوجوانوں کی عمریں محض 16 سے 18 سال کے درمیان تھیں۔ حادثے کے فوری بعد چھیپا ایمبولینس کے ذریعے دونوں کی لاشیں جناح اسپتال منتقل کی گئیں۔
ایس ایچ او قائد آباد، محمد اعجاز نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جاں بحق ہونے والا محمد ارشد خوشاب کا رہائشی تھا جبکہ ضمیر کا تعلق سانگھڑ سے تھا۔ دونوں نوجوان محنت کش تھے اور قریبی فیکٹری میں کام کر کے اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے تھے۔
گرمی سے بچنے کی کوشش جان لیوا ثابت ہوئی
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، کراچی میں جاری شدید گرمی کی لہر سے بچنے کے لیے دونوں نوجوانوں نے سائے کی تلاش میں وہاں کھڑے ایک ٹرالر کے نیچے پناہ لی۔ ٹھنڈی چھاؤں کی وجہ سے ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ وہیں سو گئے۔ اسی دوران ٹرالر کا ڈرائیور وہاں پہنچا اور اس نے نیچے سوئے ہوئے نوجوانوں سے لا علمی کے باعث گاڑی اسٹارٹ کر کے چلا دی۔ ٹرالر کے وزنی پہیوں تلے دبنے کی وجہ سے دونوں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
متوفی ضمیر: ایک سال قبل شادی اور کلینر کا کام
جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متوفی ضمیر کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ ضمیر مال بردار گاڑی پر بطور کلینر کام کرتا تھا اور سامان کی ترسیل کے سلسلے میں پورٹ قاسم آیا تھا۔ ضمیر کی شادی محض ایک سال قبل ہوئی تھی۔ جس گاڑی پر وہ کام کر رہا تھا، وہ سامان اتارنے فیکٹری کے اندر گئی تھی، اس دوران ضمیر باہر کھڑے دوسرے ٹریلر کے نیچے چٹائی بچھا کر آرام کرنے لگا کہ اسی ٹریلر نے اسے کچل دیا۔
پولیس کی کارروائی اور ڈرائیور کی تلاش
حادثے کے فوراً بعد ٹرالر کا ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ایس ایچ او محمد اعجاز کا کہنا ہے کہ پولیس کو ٹرالر اور اس کے ڈرائیور کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہو گئی ہیں جن پر کام جاری ہے اور امید ہے کہ جلد ہی ذمہ دار شخص کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد دونوں نوجوانوں کی لاشیں ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
شہریوں کے لیے اہم سبق
یہ واقعہ کراچی کے تپتے موسم میں محنت کشوں کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، ٹریفک پولیس اور ماہرین نے اس حادثے کے بعد شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کبھی بھی کھڑی گاڑیوں، خاص طور پر وزنی ٹرالرز اور ٹرکوں کے نیچے آرام نہ کریں کیونکہ یہ عمل کسی بھی وقت جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment