کم عمر بچوں کی شادی کرانے والے والدین، نکاح خواہ اور گواہان سب جیل جائیں گے: پنجاب اسمبلی نے سخت سزاؤں کی منظوری دے دی
لاہور ویب ڈیسک | 28 اپریل 2026
پنجاب اسمبلی نے صوبے میں انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے "پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026" منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت اب پنجاب میں شادی کے لیے لڑکا اور لڑکی دونوں کی کم از کم عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل لڑکیوں کے لیے شادی کی قانونی عمر 16 سال تھی، لیکن اب نئے قانون نے اس فرق کو ختم کر کے اسے سنگین جرم کے زمرے میں شامل کر دیا ہے۔ اس بل کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی کو اب "زیادتی" (Rape) کے مترادف قرار دیا جائے گا۔
کم عمری کی شادی اور سنگین سزاؤں کا تعین
پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والے بل کے مطابق، کم عمری کی شادی اب محض ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایک "قابلِ تعزیر جرم" ہوگی جس پر کرمنل ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں:
کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے شخص کو 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
اگر کوئی شخص پنجاب کے کسی کم عمر بچے کو دوسرے صوبے میں لے جا کر شادی کرے گا، تو اسے 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
ایسے بچوں کے سرپرست یا والدین کو بھی قانون کی زد میں لایا جائے گا، جنہیں 2 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔
نکاح رجسٹرار اور نکاح خواہ کے لیے انتباہ
نئے قانون میں نکاح پڑھانے والے اور اسے رجسٹر کرنے والے افراد پر بھی بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ بل کے متن کے مطابق، جو بھی نکاح خواہ یا رجسٹرار 18 سال سے کم عمر کا نکاح پڑھائے گا یا اسے درج کرے گا، اسے کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھگتنا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد نچلی سطح پر کم عمری کی شادیوں کے اندراج کو روکنا ہے تاکہ کوئی بھی قانونی سقم باقی نہ رہے۔ نکاح کے وقت کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی تصدیق کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
جبری شادی اور متاثرہ بچوں کا عدالتی تحفظ
بل میں واضح کیا گیا ہے کہ جبری شادی کی صورت میں متاثرہ بچے یا بچی کی مکمل حفاظت کی ذمہ داری عدالت پر ہوگی۔ اگر کسی بچے کو اس کی مرضی کے خلاف یا کم عمری میں شادی پر مجبور کیا گیا، تو ریاست اسے تحفظ فراہم کرے گی اور ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے اس شق کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بچوں کے بنیادی حقوق کی نفی کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
1929 کے قدیم ایکٹ کی منسوخی اور گورنر کی منظوری
پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کی حتمی منظوری کے لیے اسے گورنر پنجاب کو بھیجا جائے گا۔ گورنر کے دستخط ہوتے ہی یہ باقاعدہ قانون بن جائے گا اور اس کے نفاذ کے ساتھ ہی برطانوی دور کا قدیم "چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929" صوبہ پنجاب میں منسوخ تصور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان اسمبلی بھی اسی طرح کا بل منظور کر چکی ہے، جس کے بعد اب پنجاب دوسرا بڑا صوبہ بن گیا ہے جہاں شادی کی قانونی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔
سماجی اثرات اور عوامی ردِعمل
کم عمری کی شادی سے متعلق اس بل پر سماجی اور مذہبی حلقوں میں ملا جلا ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کمیشن (HRCP) نے اسے بچوں کے حقوق کی فتح قرار دیا ہے، جبکہ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ اسے مذہبی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ تاہم، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی لڑکیوں کی صحت اور نفسیات پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے، لہٰذا 18 سال کی عمر کی حد مقرر کرنا ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔

Comments
Post a Comment