Karachi Updates 24
بریکنگ نیوز
خوش آمدید! کراچی اپڈیٹس 24 پر آپ کو ملے گی ہر پل کی باخبر رپورٹ... کراچی میں موسم خوشگوار، سمندری ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی... پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ... سندھ حکومت کا کراچی کے لیے نئے ٹرانسپورٹ منصوبے کا اعلان...

پاکستان سے گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری: وفاقی کابینہ کا بڑا فیصلہ

Official meeting of Pakistan's Economic Coordination Committee and a visual representation of livestock exports.

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس، بلوچستان کے افسران اور ہاکی ٹیم کے لیے بھی بڑے اعلانات

کراچی ویب ڈیسک | 28 اپریل 2026

حکومتِ پاکستان نے معاشی استحکام اور برآمدات میں اضافے کے لیے ایک انوکھا اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے گدھے کا گوشت اور اس کی کھالیں چین برآمد کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاس میں اس فیصلے کی توثیق کی گئی، جس کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور پاک چین تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے کہ اس اقدام کے مقامی گوشت کی مارکیٹ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاس کی تفصیلات

گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی اور قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے جہاں کئی بڑے فیصلے کیے، وہیں گدھے کے گوشت اور کھالوں کی چین برآمد کا معاملہ سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہا۔ چین میں گدھے کی کھالوں کی بڑی مانگ ہے، جہاں ان سے روایتی ادویات اور کاسمیٹکس تیار کی جاتی ہیں، جبکہ گوشت بھی وہاں کی مخصوص مارکیٹس میں استعمال ہوتا ہے۔


گدھے کی برآمد: معاشی ضرورت یا عوامی تشویش؟

پاکستان میں گدھوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، اور حکومت اسے ایک منافع بخش برآمدی شعبے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس برآمد سے کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا، جو معیشت کے لیے معاون ثابت ہوگا۔ تاہم، عوامی سطح پر یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ برآمد کی آڑ میں کہیں مقامی ہوٹلوں اور دکانوں پر گدھے کا گوشت فروخت نہ ہونے لگے۔ اس حوالے سے قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی میں بھی پہلے بحث ہو چکی ہے، جہاں ماہرین نے زور دیا ہے کہ ذبح خانوں (Slaughterhouses) کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ یہ گوشت مقامی سپلائی چین میں شامل نہ ہو۔

بلوچستان کے افسران اور ہاکی ٹیم کے لیے مراعات

ای سی سی کے اجلاس میں صرف برآمدات ہی نہیں، بلکہ دیگر اہم شعبوں پر بھی توجہ دی گئی۔ کمیٹی نے بلوچستان میں خدمات انجام دینے والے افسران کے لیے ایک خصوصی "مراعاتی پیکیج" متعارف کروایا ہے تاکہ وہاں گورننس کو بہتر بنایا جا سکے اور باصلاحیت افسران کو دور افتادہ علاقوں میں کام کرنے کے لیے راغب کیا جائے۔ اس کے علاوہ، قومی کھیل ہاکی کی حوصلہ افزائی کے لیے ہاکی ٹیم کے لیے 3 کروڑ روپے انعام کی منظوری دی گئی، جبکہ نیب (NAB) کے نظام کو جدید بنانے اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

آٹو پارٹس کی درآمد اور جبری مشقت پر پابندی

اجلاس میں گاڑیوں کی صنعت کو سہارا دینے کے لیے آٹو پارٹس کی عارضی درآمد کی اجازت دے دی گئی ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری میں پیداواری عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ ایک اور انسانی حقوق کے حوالے سے اہم فیصلے میں، کمیٹی نے ایسی اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے جو "جبری مشقت" (Forced Labor) کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔ یہ اقدام بین الاقوامی تجارتی قوانین کی پاسداری اور انسانی حقوق کے احترام کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

کیا گدھے کی فارمنگ پاکستان کا نیا مستقبل ہے؟

ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر حکومت گدھوں کی باقاعدہ "فارمنگ" کے لیے پالیسی بناتی ہے، تو یہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں انقلاب لا سکتا ہے۔ چین کی طلب کو پورا کرنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر گدھوں کی افزائش سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم، اس کے لیے حکومت کو عالمی معیار کے ذبح خانے اور سرٹیفیکیشن کا نظام وضع کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی فروخت کا راستہ روکا جا سکے۔

Comments