ایک ہزار والا کرایہ اب ساڑھے چار ہزار سے تجاوز کر گیا؛ واپڈا کا ایک یونٹ استعمال نہ کرنے کے باوجود ہزاروں روپے کا بل، فیول ایڈجسٹمنٹ اور جی ایس ٹی نے سولر صارفین کے ہوش اڑا دیے، سوشل میڈیا پر دہائی
کراچی (اہم خبر): پاکستان میں سولر سسٹم لگا کر بجلی کے بھاری بلوں سے جان چھڑانے والے شہریوں کے لیے بری خبر سامنے آئی ہے۔ حکومت کی جانب سے گرین میٹر (Net Metering) کے فکسڈ چارجز میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہ صارفین بھی ہزاروں روپے بل دینے پر مجبور ہیں جنہوں نے گرڈ سے ایک یونٹ بجلی بھی استعمال نہیں کی۔
فکسڈ چارجز میں چونکا دینے والا اضافہ
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک بجلی کے بل (IESCO) کے مطابق، جہاں پہلے گرین میٹر کے فکسڈ چارجز تقریباً ایک ہزار روپے ہوا کرتے تھے، وہ اب بڑھا کر 4,725 روپے کر دیے گئے ہیں۔
بغیر استعمال بل: سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ سولر سسٹم کے ذریعے بجلی پیدا کرنے اور واپڈا کو فراہم کرنے کے باوجود، صارفین پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) اور جی ایس ٹی (GST) جیسے ٹیکسز لگائے جا رہے ہیں۔
عوامی ردِعمل: شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت گرین انرجی کو فروغ دینے کی باتیں کرتی ہے اور دوسری طرف سولر صارفین پر بھاری چارجز لگا کر انہیں سزا دی جا رہی ہے۔
بلنگ کا نیا طریقہ کار: بڑی پیش رفت
بجلی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی جانب سے ٹیرف میں کی جانے والی ان تبدیلیوں کا مقصد مبینہ طور پر ان نقصانات کو پورا کرنا ہے جو سولر صارفین کی تعداد بڑھنے سے کمپنیوں کو ہو رہے ہیں۔
میٹر رینٹ اور فکسڈ چارجز: نئے رولز کے تحت فکسڈ چارجز کو بتدریج بڑھایا جا رہا ہے۔
ٹیکسز کی بھرمار: بل میں الیکٹرسٹی ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی شمولیت نے بل کی رقم کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سولر صارفین کے لیے الرٹ
یہ صورتحال ان تمام شہریوں کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہے جو مستقبل میں سولر پینلز لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فکسڈ چارجز اسی طرح بڑھتے رہے تو سولر سسٹم سے ہونے والی بچت کا فائدہ ختم ہو کر رہ جائے گا۔ کراچی سمیت ملک بھر کے سولر صارفین نے حکومت سے اس ظالمانہ اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments
Post a Comment