عوام اور تاجروں کے لیے بڑی خوشخبری؛ درآمدات اور برآمدات پر عائد 2600 رکاوٹیں ختم کرنے کا پلان، گاڑیوں پر ڈیوٹی 4 سال میں صفر ہو جائے گی، آئی ایم ایف کی تجویز پر ٹیرف میں بڑی کمی کا الرٹ جاری
اسلام آباد (بڑی خبر): وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ملک کی معیشت کو سہارا دینے اور کاروبار کو آسان بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، نئے بجٹ میں 60 سے 70 غیر ضروری تجارتی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی، جس سے ملک میں درآمدات اور برآمدات کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹیں دور ہوں گی۔
ٹیرف میں کمی اور آئی ایم ایف کی شرائط
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی تجویز پر اگلے بجٹ میں ٹیرف کو 10.7 فیصد سے کم کر کے 9.5 فیصد پر لانے کی تجویز ہے۔ حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2030 تک اوسط ٹیرف کو 7.4 فیصد تک لایا جائے گا، جس سے درآمدی لاگت میں واضح کمی آئے گی۔
گاڑیوں اور صنعتوں کے لیے بڑی رعایتیں: اہم پیش رفت
نئے مالیاتی وژن کے تحت مختلف شعبوں میں خطرے کی گھنٹی بجانے والی رکاوٹوں کو دور کیا جا رہا ہے:
گاڑیوں پر ڈیوٹی: گاڑیوں پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو آئندہ 4 سالوں میں 40 فیصد سے کم کر کے صفر کرنے کا پلان تیار کر لیا گیا ہے۔
صنعتی شعبہ: ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل (ادویات)، لیدر اور کیمیکل کے شعبوں میں نان ٹیرف رکاوٹوں کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جائے گا۔
نیشنل ٹیرف پالیسی: یہ تمام تر تبدیلیاں نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت کی جائیں گی تاکہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکے۔
معیشت پر اثرات اور عوامی فائدہ: چونکا دینے والا انکشاف
حکام کے مطابق، ان اصلاحات کا مقصد درآمدی لاگت کو کم کرنا ہے تاکہ عام آدمی تک اشیاء کی رسائی سستی ہو سکے۔ درآمدی ڈیوٹی میں بتدریج کمی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت کو استحکام ملے گا۔ ان اقدامات کی حتمی منظوری کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز سے لی جائے گی۔

Comments
Post a Comment