Karachi Updates 24
بریکنگ نیوز
خوش آمدید! کراچی اپڈیٹس 24 پر آپ کو ملے گی ہر پل کی باخبر رپورٹ... کراچی میں موسم خوشگوار، سمندری ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی... پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ... سندھ حکومت کا کراچی کے لیے نئے ٹرانسپورٹ منصوبے کا اعلان...

breaking news کراچی میں قیامت خیز گرمی کی لہر: کیا شہرِ قائد ‘ہیٹ آئی لینڈ’ بن چکا ہے؟ سولر پلیٹس یا ماحولیاتی تبدیلی، اصل وجہ کیا ہے؟

 کراچی (ویب ڈٰسک) شہرِ قائد کے باسیوں کے لیے مئی کا مہینہ شدید آزمائش بن کر سامنے آیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر نے آئندہ تین روز کے لیے کراچی کے موسم سے متعلق نئی پیش گوئی جاری کر دی ہے، جس کے مطابق شہر میں گرمی اور حبس کی شدت برقرار رہے گی۔ تاہم، اس سال گرمی کی جو لہر سندھ سمیت کراچی میں دیکھی جا رہی ہے، اس نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ماہرین اور شہری اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر اس ‘قیامت خیز’ گرمی کی اصل وجہ کیا ہے؟

آئندہ 3 روز کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق، کراچی میں آج پارہ 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جبکہ بدھ کو 37 اور جمعرات کو 35 ڈگری رہنے کی توقع ہے۔ بظاہر درجہ حرارت میں کمی نظر آرہی ہے، لیکن ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے ‘فیل لائیک’ (محسوس کی جانے والی گرمی) 45 ڈگری سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ شہر میں سمندری ہواؤں کے ساتھ ساتھ مغربی سمت کی خشک ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔

سندھ میں گرمی کی شدت کیوں بڑھ رہی ہے؟

صرف کراچی ہی نہیں بلکہ اندرونِ سندھ کے اضلاع جیسے جیکب آباد، نوابشاہ اور لاڑکانہ اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ "کلائمیٹ چینج" (ماحولیاتی تبدیلی) ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت سندھ کے جغرافیائی خطے پر تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔ کوہِ کیرتھر کے پہاڑی سلسلے سے آنے والی گرم ہوائیں اور سمندری ہواؤں کا بار بار رک جانا کراچی کو ایک تندور میں تبدیل کر دیتا ہے۔

کیا سولر پلیٹس گرمی بڑھانے کا سبب ہیں؟

آج کل کراچی سمیت پورے سندھ میں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا گھروں، عمارتوں اور فیکٹریوں کی چھتوں پر لگی لاکھوں سولر پلیٹس گرمی میں اضافے کی وجہ بن رہی ہیں؟

سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سولر پلیٹس سورج کی روشنی کو جذب کر کے بجلی بناتی ہیں۔ لیکن جب یہ پلیٹس لاکھوں کی تعداد میں ایک محدود رقبے پر لگائی جاتی ہیں، تو یہ "فوٹو وولٹک ہیٹ آئی لینڈ اثر" پیدا کر سکتی ہیں۔ اگرچہ یہ اثر اتنا بڑا نہیں ہے کہ پورے شہر کا موسم بدل دے، لیکن گنجان آباد علاقوں میں جہاں ہریالی کم اور کنکریٹ زیادہ ہے، وہاں یہ پلیٹس مقامی درجہ حرارت میں معمولی اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پلیٹس سے زیادہ خطرناک وہ کنکریٹ کی عمارتیں اور تارکول کی سڑکیں ہیں جو تپش کو جذب کر کے رات گئے تک خارج کرتی رہتی ہیں۔

قدرت کا نظام یا انسانی مداخلت؟

کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی محض ‘قدرت کا نظام’ نہیں بلکہ قدرت کے ساتھ کی جانے والی ‘چھیڑ چھاڑ’ کا نتیجہ ہے۔

  1. درختوں کا کٹاؤ: کراچی میں گرین بیلٹس کا خاتمہ اور درختوں کی جگہ بلند و بالا عمارتوں نے لے لی ہے۔

  2. اربن ہیٹ آئی لینڈ: شہر کی بلند عمارتیں سمندری ہواؤں کا راستہ روکتی ہیں، جس سے حبس بڑھتا ہے۔

  3. آلودگی اور دھواں: گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والی گیسیں فضا میں ایک کمبل کی طرح تن جاتی ہیں جو تپش کو باہر نہیں نکلنے دیتیں۔

موسم کے بڑھتے خطرات

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کراچی میں ‘ہیٹ ویو’ کے واقعات میں ہر سال اضافہ ہوگا۔ مئی اور جون کے مہینے مزید طویل اور گرم ہوتے جائیں گے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف اے سی اور سولر پلیٹس پر انحصار کرنے کے بجائے ‘شجرکاری’ پر توجہ دیں۔

شہریوں کے لیے احتیاط: آئندہ تین روز کے دوران بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا استعمال زیادہ رکھیں اور ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے زیب تن کریں۔ کراچی کے بدلتے موسم اور گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر ہی واحد حل ہیں۔

Comments