وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں کی ہدایت پر انسپیکشن کا دائرہ وسیع، اینٹی کرپشن حکام کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں تیز، خرد برد میں ملوث افسران کے خلاف سخت قانونی ایکشن کا الرٹ
کراچی (اسٹاف رپورٹر): حکومتِ سندھ نے صوبے بھر میں گندم کے سرکاری ذخائر میں شفافیت یقینی بنانے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزماں کی خصوصی ہدایت پر سرکاری گوداموں کی نگرانی کے لیے انسپیکشن ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے جبکہ اینٹی کرپشن حکام کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
محکمہ خوراک میں کرپشن کے خلاف سخت تادیبی اقدامات
صوبائی وزیر خوراک نے واضح کیا ہے کہ عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے محکمہ میں کسی بھی سطح پر بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی:
بلاامتیاز کارروائی: گندم چوری یا بے ضابطگیوں میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
قانونی چارہ جوئی: جن گوداموں سے خرد برد کی شکایات موصول ہوئی ہیں، وہاں ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
شفافیت کا قیام: ان اقدامات کا بنیادی مقصد گندم کے ذخائر میں شفافیت لانا اور عوامی وسائل کی لوٹ مار کو ہر صورت روکنا ہے۔
عوام کو سستی گندم اور آٹے کی فراہمی ترجیح
مخدوم محبوب الزماں کے مطابق حکومتِ سندھ عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے:
ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ: بدانتظامی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
گڈ گورننس: وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایات کی روشنی میں احتساب اور شفافیت کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرایا جا رہا ہے۔
مستقل نگرانی: مشترکہ ٹیمیں مسلسل فیلڈ میں موجود ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا بدعنوانی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
پارٹی قیادت کا وژن اور مستقبل کے اقدامات
وزیر خوراک نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق عوامی خدمت اور شفاف طرزِ حکمرانی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پارٹی قیادت کی واضح ہدایات ہیں کہ عوامی مفاد کے خلاف کوئی بھی عمل برداشت نہ کیا جائے۔ آنے والے دنوں میں گندم کے ذخائر کی حفاظت کے لیے مزید مؤثر اور سخت اقدامات متوقع ہیں۔
Comments
Post a Comment