ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کا کام کے معیار اور سست روی پر شدید اظہارِ تشویش؛ ناقص میٹریل اور عوامی تحفظ کے خطرات کے باعث ٹھیکیدار کی چھٹی، سندھ حکومت نے قانونی کارروائی شروع کر دی
کراچی (ویب ڈیسک): کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے کے لیے جاری 'ٹرانس کراچی' پروجیکٹ میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ حکومت نے کام کی سست رفتاری اور طے شدہ معیار پر پورا نہ اترنے والے ٹھیکیدار (Contractor) کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اس کی برطرفی (Termination) کا فیصلہ کیا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے تحفظات
ذرائع کے مطابق، ایشیائی ترقیاتی بینک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے حال ہی میں پروجیکٹ کا دورہ کیا اور ٹھیکیدار کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے۔ وفد کی رپورٹ میں درج ذیل اہم نکات کی نشاندہی کی گئی:
کام کی سست روی: پروجیکٹ اپنی مقررہ مدت سے کافی پیچھے چل رہا ہے، جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ناقص معیار: تعمیراتی کام کا معیار مقررہ بین الاقوامی اسٹینڈرڈ سے کہیں کم پایا گیا۔
ہیلتھ اینڈ سیفٹی: کام کے دوران ورکرز اور عوامی تحفظ (Occupational Health and Safety) کے حوالے سے سنگین غفلت برتی گئی۔
سندھ حکومت کا ایکشن
وفد کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کے بعد سندھ حکومت نے ٹھیکیدار کو مزید مہلت دینے کے بجائے اس کا کنٹریکٹ ختم کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کام کا معیار گرنے سے نہ صرف عوامی بجٹ ضائع ہو رہا تھا بلکہ سڑکوں پر جاری کام شہریوں کی حفاظت کے لیے بھی خطرہ بن گیا تھا۔
مستقبل کا لائحہ عمل
انتظامیہ اب ان متبادل ذرائع پر غور کر رہی ہے جن کے ذریعے پروجیکٹ کو مزید تاخیر کا شکار کیے بغیر مکمل کیا جا سکے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ نیا ٹھیکیدار جلد از جلد کام سنبھالے تاکہ ریڈ لائن اور دیگر متعلقہ منصوبے عوامی مفاد میں جلد مکمل ہو سکیں۔

Comments
Post a Comment