اقرا یونیورسٹی کے سامنے سفاک ڈاکوؤں کی فائرنگ؛ محنت کش رائڈر جان کی بازی ہار گیا، زمان ٹاؤن، سچل، گلبرگ اور فریئر میں پولیس مقابلے، اسلحہ برآمد اور اہم انکشافات
کراچی (ویب ڈیسک): شہرِ قائد میں ڈاکوؤں کی سفاکی انتہا کو پہنچ گئی۔ ڈیفنس ویو میں اقرا یونیورسٹی کے عین سامنے موبائل فون نہ دینے پر ایک اور محنت کش بائیکیا رائڈر کو قتل کر دیا گیا۔ دوسری جانب پولیس نے شہر کے مختلف حصوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 5 ڈاکوؤں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔
رائڈر کا قتل: ڈیفنس ویو کی لرزہ خیز واردات
آج 22 اپریل 2026 کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے مطابق:
مقام: ڈیفنس ویو، اقرا یونیورسٹی کے سامنے۔
واقعہ: ایک بائیکیا رائڈر کو مسلح ڈاکوؤں نے لوٹنے کی کوشش کی۔ رائڈر کی جانب سے موبائل فون دینے میں مزاحمت پر بے رحم ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔
نتیجہ: زخمی شہری کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے لے جایا گیا، لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ کچھ دیر بعد دم توڑ گیا۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
پولیس ایکشن: 5 ڈاکو دھر لیے گئے
ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلوں کے دوران اہم کامیابیاں ملی ہیں:
زمان ٹاؤن اور سچل: پولیس نے اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان کو مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کیا۔
گلبرگ اور فریئر: ان علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں میں ڈکیت گروہ کے ارکان کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔
انکشافات: دورانِ تفتیش گرفتار ملزمان نے شہر کے مختلف حصوں میں درجنوں وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ اور چھینا گیا سامان بھی برآمد کر لیا ہے۔
عوامی حلقوں کا ردِعمل
بائیکیا رائڈر کے قتل پر شہریوں اور تاجر برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اسٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف گرفتاریاں کافی نہیں بلکہ ان سفاک قاتلوں کو سرِ عام عبرت ناک سزائیں دی جائیں تاکہ کراچی کی سڑکیں محفوظ ہو سکیں۔

Comments
Post a Comment