بحری جہاز Honour 25 پر صومالی قزاقوں کا حملہ، 11 پاکستانیوں کی زندگی خطرے میں: حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل
کراچی ویب ڈیسک | 28 اپریل 2026
صومالیہ کے قریب سمندر میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں صومالی قزاقوں نے آئل ٹینکر "اونر 25" (Honour 25) پر قبضہ کر کے عملے کے 11 پاکستانی ارکان کو یرغمال بنا لیا ہے۔ اس واقعے نے اس وقت پوری قوم کو غمزدہ کر دیا جب کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک مغوی نوجوان امین بن شمس کی کرب میں ڈوبی آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس آڈیو میں نوجوان اپنی زندگی کی آخری امیدیں توڑتے ہوئے اپنے والدین سے معافی مانگ رہا ہے اور اپنے بچوں کا خیال رکھنے کی وصیت کر رہا ہے۔
"یہ میرا آخری پیغام ہے": امین بن شمس کی رقت آمیز آڈیو
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو میں امین بن شمس کو روتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے والد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "ابو! ہمیں بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے، یہ میرا آخری وائس میسج ہے، کیا پتا اب میں آپ سے بات نہ کر پاؤں کیونکہ یہ ہمیں مارنے کے لیے لے کر جا رہے ہیں"۔ نوجوان نے مزید کہا کہ اگر اس سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو اسے معاف کر دیا جائے اور اس کی اہلیہ عائشہ اور ننھے بچوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ یہ پیغام سن کر ہر آنکھ اشکبار ہے اور سوشل میڈیا پر حکومت سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اکلوتے بیٹے کی واپسی کے لیے بوڑھے باپ کی دہائی
امین بن شمس کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امین ان کا اکلوتا بیٹا ہے جسے انہوں نے بہت امیدوں کے ساتھ پہلی بار روزگار کے لیے بیرونِ ملک بھیجا تھا۔ انہوں نے روتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ "ہمارا ایک ہی بچہ ہے، خدارا اسے کسی طرح صحیح سلامت واپس لا دیں۔ ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارا کل اثاثہ یہی بیٹا ہے"۔ مغوی کی اہلیہ عائشہ کا کہنا تھا کہ امین نے بتایا کہ قزاق ہوائی فائرنگ کر کے انہیں ہراساں کر رہے ہیں اور وہ اپنے اس بچے سے ملنے کی امید کھو چکے ہیں جسے انہوں نے ابھی تک دیکھا بھی نہیں ہے۔
بحری جہاز "اونر 25" پر حملے کی تفصیلات
شپنگ ذرائع کے مطابق، یہ حملہ 21 اپریل کو اس وقت ہوا جب آئل ٹینکر صومالیہ کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود سے گزر رہا تھا۔ جہاز پر موجود 11 پاکستانیوں سمیت عملے کے دیگر ارکان کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز بھیجنے والی ایجنسی اور وزارتِ بحری امور کے متعلقہ محکموں کا تاحال عملے سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے، جس نے اہلخانہ کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
حکومتی خاموشی اور بین الاقوامی کوششیں
مغویوں کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ جہاز کے انڈونیشین کیپٹن کی رہائی کے لیے انڈونیشیا کی حکومت قزاقوں سے براہِ راست مذاکرات کر رہی ہے، لیکن پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اہلخانہ نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں اور سفارتی یا عسکری ذرائع استعمال کر کے پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنائیں۔
کیا پاکستان صومالی قزاقوں کے خلاف آپریشن کرے گا؟
ماضی میں بھی پاک بحریہ نے صومالیہ کے قریب کئی کامیاب آپریشنز کیے ہیں، لیکن اس بار معاملہ حساس ہے کیونکہ قزاقوں نے عملے کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ان 11 خاندانوں کی نظریں اب ایوانِ اقتدار پر لگی ہیں کہ کب ان کے پیارے موت کے سائے سے نکل کر اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے۔


Comments
Post a Comment