Karachi Updates 24
بریکنگ نیوز
خوش آمدید! کراچی اپڈیٹس 24 پر آپ کو ملے گی ہر پل کی باخبر رپورٹ... کراچی میں موسم خوشگوار، سمندری ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی... پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ... سندھ حکومت کا کراچی کے لیے نئے ٹرانسپورٹ منصوبے کا اعلان...

بڑی خبر : پاکستان میں پیٹرول بم گرانے کی تیاری: پیٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا امکان

A close-up shot of a fuel nozzle at a petrol station in Pakistan with rising fuel price charts in the background

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں عام آدمی کے لیے سانس لینا بھی دوبھر ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور معاشی حلقوں میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ایسا تاریخی اضافہ کرنے جا رہی ہے جو ملک کی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان میں پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 500 روپے کی حد عبور کر جائے گی؟ یہ محض ایک افواہ ہے یا اس کے پیچھے کچھ ٹھوس معاشی وجوہات ہیں؟ آئیے اس کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔

عالمی تنازعات اور تیل کی سپلائی کا بحران

پاکستان اپنی ضرورت کا 70 فیصد سے زائد تیل درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں ہونے والی چھوٹی سی تبدیلی بھی یہاں بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان عسکری تنازع نے عالمی توانائی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)، جو کہ عالمی خام تیل کی تجارت کا مرکز ہے، وہاں کسی بھی قسم کے عسکری تعطل کا مطلب ہے کہ سپلائی لائن منقطع ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 500 روپے تک پہنچانے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

90 دن کے اسٹریٹیجک ذخائر کا منصوبہ: ضرورت یا بوجھ؟

حکومتی دستاویزات کے مطابق، پاکستان نے اپنی توانائی کی حفاظت (Energy Security) کو یقینی بنانے کے لیے 90 دن کے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزروز (SPR) قائم کرنے کا ایک بڑا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کسی بھی جنگی صورتحال یا عالمی پابندیوں کی صورت میں ملک میں ایندھن کی فراہمی کو تین ماہ تک جاری رکھنا ہے۔ اگرچہ یہ دفاعی اور معاشی لحاظ سے ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کی فنڈنگ کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر ایک نئی "اسٹریٹیجک لیوی" عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اگر فی لیٹر پر صرف 10 روپے لیوی لگائی جائے تو سالانہ 200 ارب روپے جمع ہوں گے۔ تین سالوں میں یہ رقم 600 ارب روپے (2 ارب ڈالر سے زائد) بنتی ہے۔ یہ اضافی بوجھ پہلے سے پسی ہوئی عوام کے لیے "پیٹرول بم" سے کم نہیں ہوگا۔

روپے کی قدر میں کمی اور آئی ایم ایف کے مطالبات

پیٹرول مہنگا ہونے کی ایک بڑی وجہ پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور آئی ایم ایف (IMF) کی کڑی شرائط ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ مسلسل حکومت پر زور دے رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی مکمل ختم کی جائے اور ٹیکسوں کا ہدف پورا کیا جائے۔ اگر ڈالر کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہوتا ہے اور حکومت لیوی کی شرح کو بڑھاتی ہے، تو 500 روپے کا ہندسہ اب دور نظر نہیں آتا۔ آج ہونے والے ممکنہ اضافے کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں حکومت اپنے ریونیو کے اہداف پورے کرنے کے لیے قیمتوں میں بڑا ردوبدل کر سکتی ہے۔

کراچی اور دیگر شہروں پر اثرات

کراچی، جو پاکستان کا معاشی انجن ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو آگ لگا دیتا ہے۔ سبزیوں، پھلوں اور دودھ کی قیمتیں براہِ راست پیٹرول کی قیمت سے منسلک ہیں۔ اگر پیٹرول 500 روپے تک پہنچتا ہے تو متوسط طبقے کے لیے موٹر سائیکل چلانا بھی عیاشی بن جائے گا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گے۔

کیا آج قیمتیں بڑھیں گی؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے قیمتوں میں اضافے کی سمری تیار کر لی ہے۔ آج رات کسی بھی وقت نئے نرخوں کا اعلان متوقع ہے۔ اگر حکومت نے اسٹریٹیجک ذخائر کی لیوی کا نفاذ آج سے ہی کر دیا، تو پیٹرول کی قیمت میں 20 سے 50 روپے تک کا اچانک اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

Comments