عوامی جیب پر بڑا بوجھ؛ پیٹرول 393 روپے اور ڈیزل 380 روپے سے تجاوز کر گیا، مٹی کا تیل 63 روپے 60 پیسے سستا، حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں بھی بڑا اضافہ کر دیا، الرٹ جاری
اسلام آباد (بڑی خبر): حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا نیا بم گرا دیا ہے۔ تاہم، مٹی کے تیل کے صارفین کے لیے ایک بڑی رعایت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اوگرا (OGRA) نے نئی قیمتوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق 25 اپریل 2026 سے ہو چکا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ: بڑی پیش رفت
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں درج ذیل اضافہ کیا ہے:
پیٹرول کی نئی قیمت: پیٹرول کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 393 روپے 33 پیسے مقرر ہو گئی ہے۔
ڈیزل کی نئی قیمت: ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 26 روپے 77 پیسے مہنگا ہو گیا ہے، جس کی نئی قیمت اب 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر ہے۔
وجہ: وفاقی وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ اور لیوی میں اضافے کی وجہ سے یہ بوجھ عوام پر منتقل کرنا پڑا۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑی کمی: چونکا دینے والا انکشاف
جہاں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوا ہے، وہیں حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں غیر معمولی کمی کر کے شہریوں کو حیران کر دیا ہے:
تاریخی کمی: مٹی کا تیل 63 روپے 60 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمت: کمی کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت اب 365 روپے 21 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم لیوی میں بڑا اضافہ: خطرے کی گھنٹی
حکومت نے ریونیو بڑھانے کے لیے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) میں بھی بڑا اضافہ کر دیا ہے:
لیوی کی نئی شرح: پیٹرول پر لیوی 80.61 روپے سے بڑھا کر 107.38 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
حکام کا اعتراف: حکام کا کہنا ہے کہ اگر لیوی میں یہ اضافہ نہ کیا جاتا تو پیٹرول کی سابقہ قیمت برقرار رکھی جا سکتی تھی۔ تاہم، ڈیزل پر لیوی کی شرح فی الحال صفر برقرار رکھی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتوں کے دباؤ کو جس قدر ممکن ہوا برداشت کیا گیا، لیکن بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔

Comments
Post a Comment