مارننگ شوز میں ناچ گانا، ڈراموں میں طلاق کا فیشن اور لائیو شوز کی وہ حرکتیں جنہوں نے سر شرم سے جھکا دیے؛ اب وقت آگیا ہے کہ حیا کے دائرے کو پھر سے کھینچا جائے!
کراچی (ویب ڈیسک): پاکستان کی بنیادیں اسلامی اصولوں اور مشرقی روایات پر استوار ہیں، جہاں حیا کو ایمان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں پاکستانی میڈیا پر 'جدت' اور 'ریٹنگ' کے نام پر جو کچھ دکھایا جا رہا ہے، اس نے معاشرے کے سنجیدہ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا ہم تفریح کے نام پر اپنی نسلوں کے اخلاق تباہ کر رہے ہیں؟
لائیو شوز: نجی زندگی کی نمائش
آج کل ٹی وی آن کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی کی نجی زندگی میں جھانک رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک لائیو شو کے دوران ایک شوہر کا اپنی بیوی کو سرِعام گود میں اٹھا لینا اور اسے فخر سے دکھانا، کیا واقعی ہماری ثقافت کا حصہ ہے؟ یہ مناظر صرف ایک فرد کا عمل نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک نیا 'نارمل' بن رہے ہیں، جو ہماری ایمانی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
مغربی تقلید اور لباس کی بے ہودگی
وہ باتیں جن پر ہم ماضی میں انڈین میڈیا کو نشانہ بناتے تھے، آج ہمارے اپنے ڈراموں اور فلموں کا حصہ بن چکی ہیں۔
واہیات لباس: فلموں اور ڈراموں میں لباس کا انتخاب اب مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید بن چکا ہے۔
دہرے مفہوم والی گفتگو (Double Meaning): مزاح کے نام پر ایسی گندی گفتگو کی جاتی ہے جسے کوئی بھی ذی شعور انسان اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سن سکتا۔
مارننگ شوز کا زوال: صبح سویرے علم اور تربیت کے بجائے ناچ گانا اور شادی بیاہ کے فضول اسراف کو گلیمرائز کرنا معمول بن گیا ہے۔
خاندانی نظام پر حملہ: طلاق کا فیشن
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ڈراموں میں طلاق کو ایک معمولی حل بنا کر پیش کرنا ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ "اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے"۔ لیکن ہمارے ڈرامہ نگار ریٹنگ کے چکر میں طلاق اور رشتوں کے ٹوٹنے کو اتنا 'کول' (Cool) بنا کر پیش کرتے ہیں کہ نئی نسل میں صبر اور برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
حکومت اور ریگولیٹری اداروں کا کردار
اگرچہ حکومت نے ماضی میں کچھ سخت اقدامات کیے، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پیمرا (PEMRA) اور دیگر ادارے مستقل بنیادوں پر ایکشن لیں۔
غیر اخلاقی مواد دکھانے والے چینلز پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔
ڈراموں اور شوز کے لیے سخت 'کوڈ آف کنڈکٹ' بنایا جائے۔
آزادیِ اظہار کے نام پر بے حیائی پھیلانے والوں کا محاسبہ کیا جائے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی کا مطلب بے لباس ہونا یا روایات کو توڑنا نہیں ہے، بلکہ سوچ کی وسعت ہے۔ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کر لی تو کل ہمارے ڈرائنگ رومز میں وہ کچھ ہوگا جس کا تصور بھی آج محال ہے۔

Comments
Post a Comment