خصوصی اقتصادی زونز ترمیمی ایکٹ 2026 منظور: آئی ایم ایف کی شرائط اور سرمایہ کاروں کے لیے نئی مراعات کا ٹکراؤ، اب تنازعات عدالت نہیں ٹریبونل حل کرے گا
اسلام آباد (بیورو رپورٹ): وفاقی دارالحکومت میں طاقت کے ایوانوں سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جو پاکستان کی معاشی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے انتہائی عجلت میں "خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) ترمیمی ایکٹ 2026" کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت نجی ڈیولپرز کو اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین مفت لیز پر فراہم کی جائے گی۔
کراچی میں 6 ہزار ایکڑ اراضی کی بند بانٹ
وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر شیخ نے اس فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ کراچی جیسے تجارتی مرکز میں 6 ہزار ایکڑ سرکاری زمین خصوصی اقتصادی زونز کے لیے مختص کر دی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت:
ہر بڑے ڈیولپر کو 1000 ایکڑ تک زمین مفت لیز پر دی جا سکے گی۔
کم از کم رقبہ 500 ایکڑ فی ڈیولپر رکھا گیا ہے۔
سڑکیں، بجلی، گیس اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔
عدالتوں کے اختیارات محدود: ٹریبونل کا قیام
اس بل کی سب سے اہم اور متنازع شق عدالتوں کے دائرہ اختیار کو محدود کرنا ہے۔ سرمایہ کاروں کی شکایات کو دور کرنے کے لیے "خصوصی اقتصادی اپیلیٹ ٹریبونل" قائم کیا جا رہا ہے۔
اب کمرشل عدالتیں یا ہائی کورٹس ان زونز کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکیں گی۔
ہر مقدمے کا فیصلہ 3 ماہ کے اندر کرنا لازمی ہوگا۔
ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ میں کی جا سکے گی۔
آئی ایم ایف کا دباؤ اور ٹیکس چھوٹ کا معمہ
ایک طرف پاکستان آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے لیے ٹیکس مراعات ختم کرنے کا وعدہ کر چکا ہے، تو دوسری طرف حکومت 2035 تک ٹیکس استثنا دینے کی راہ نکال رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے منظوری دی ہے کہ جو ادارے اگلے 10 سال میں پیداوار شروع کریں گے، انہیں انکم ٹیکس سے مکمل چھوٹ ملے گی۔ ایس آئی ایف سی (SIFC) کے حکام کا ماننا ہے کہ اگر مراعات نہ دی گئیں تو بیرونی سرمایہ کاری لانا ناممکن ہوگا۔
انتظامی تبدیلی: بورڈ آف انویسٹمنٹ سے اختیارات کی واپسی
نئے قانون کے تحت منظوریوں کا نظام بھی بدل دیا گیا ہے۔ اب تمام درخواستوں کی جانچ پڑتال اور منظوری کا اختیار بورڈ آف انویسٹمنٹ سے لے کر "وفاقی خصوصی اقتصادی زون اتھارٹی" کو دے دیا گیا ہے تاکہ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے کام کو تیز کیا جا سکے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت معاشی بحالی کے لیے سخت اور غیر روایتی فیصلے کرنے کے لیے تیار ہے، چاہے اس کے لیے عدالتی نظام میں تبدیلیاں ہی کیوں نہ کرنی پڑیں۔

Comments
Post a Comment