Karachi Updates 24
بریکنگ نیوز
خوش آمدید! کراچی اپڈیٹس 24 پر آپ کو ملے گی ہر پل کی باخبر رپورٹ... کراچی میں موسم خوشگوار، سمندری ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی... پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ... سندھ حکومت کا کراچی کے لیے نئے ٹرانسپورٹ منصوبے کا اعلان...

پاکستان کا بڑا تجارتی فیصلہ: دوسرے ممالک کو براستہ پاکستان ایران سامان لے جانے کی اجازت، 'ٹرانزٹ آرڈر 2026' نافذ

A cargo truck crossing the border at Taftan or a view of Gwadar Port with shipping containers.

گوادر، کراچی اور تفتان روٹس ٹرانزٹ کے لیے مختص؛ وزارتِ تجارت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، گوادر بندرگاہ کو باضابطہ تجارتی حیثیت مل گئی، مالی گارنٹی لازمی قرار، بڑی پیش رفت


اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر): وفاقی حکومت نے علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ’ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026ء‘ نافذ کر دیا ہے۔ اس اہم فیصلے کے تحت اب دنیا کے دیگر ممالک پاکستان کی بندرگاہوں اور سڑکوں کا استعمال کرتے ہوئے ایران تک اپنا سامان منتقل کر سکیں گے۔

نئے ٹرانزٹ روٹس اور گوادر کی اہمیت: بڑی خبر

وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پاکستان نے ایران تک سامان کی ترسیل کے لیے تین بنیادی روٹس مختص کیے ہیں:

  • مختص روٹس: گوادر، کراچی اور تفتان روٹس کو ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

  • گوادر پورٹ: اس فیصلے کے بعد گوادر بندرگاہ کو باضابطہ طور پر تجارتی مقاصد کے لیے بین الاقوامی حیثیت دے دی گئی ہے، جس سے بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔

مالی گارنٹی اور کسٹمز قوانین: اہم انکشاف

حکومت نے ٹرانزٹ تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے سخت قوانین بھی وضع کیے ہیں:

  1. مالی گارنٹی: ٹرانزٹ کارگو کے لیے مالی گارنٹی فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

  2. ایف بی آر قوانین: تمام تر ترسیل ایف بی آر (FBR) کے قوانین اور کسٹمز کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہو گی۔

  3. تیسرے ملک کی تجارت: اب کوئی بھی تیسرا ملک ایران جانے والا سامان پاکستان کی سرزمین سے گزار سکے گا، جس سے پاکستان کو ٹرانزٹ فیس کی مد میں خطیر زرمبادلہ حاصل ہوگا۔

علاقائی تجارت پر اثرات: خطرے کی گھنٹی

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اقدام سے پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں اور ایران کے درمیان ایک "تجارتی پل" بن کر ابھرے گا۔ گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کے استعمال سے نہ صرف پورٹ ریونیو بڑھے گا بلکہ لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے اسٹریٹجک وژن 2030 کے حصول میں بڑی سنگِ میل ثابت ہوگا۔

Comments