سول ڈیفنس اور محکمہ موسمیات کی اہم ایڈوائزری: 12 مئی تک غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، موبائل فون دھماکے سے پھٹنے کا خدشہ
کراچی ویب ڈیسک | 30 اپریل 2026
شہرِ قائد کراچی اس وقت شدید ترین موسمیاتی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ ایک طرف محکمہ موسمیات نے درجہ حرارت 45 سے 55 ڈگری سیلسیئس تک پہنچنے کی وارننگ جاری کر دی ہے، تو دوسری جانب شہر میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا ہے۔ پانی کی شدید قلت نے آگ پر تیل کا کام کیا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔
سول ڈیفنس کی جانب سے ہائی الرٹ اور احتیاطی تدابیر
سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ نے شہریوں کے لیے ہنگامی ہدایات جاری کی ہیں۔ الرٹ کے مطابق 29 اپریل سے 12 مئی تک صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے کے درمیان کھلے آسمان تلے نکلنے سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ شدید تپش کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری یا اچانک طبیعت خراب ہونے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
موبائل فون کے استعمال اور گھروں میں وینٹیلیشن سے متعلق انتباہ
شدید گرمی کے پیشِ نظر الرٹ میں کہا گیا ہے کہ موبائل فونز کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ زیادہ درجہ حرارت میں بیٹری پھٹنے (Exploding) کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ گھروں کے اندر ہوا کی گردش (Circulation) برقرار رکھنے کے لیے دروازے کھلے رکھیں۔ اس کے علاوہ دہی، لسی اور ٹھنڈے مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
گاڑی مالکان کے لیے خصوصی ہدایات
بڑھتے ہوئے درجہ حرارت (47 سے 55 ڈگری) کے پیشِ نظر گاڑیوں میں موجود درج ذیل اشیاء کو فوری طور پر نکال دیں کیونکہ یہ آگ لگنے کا سبب بن سکتی ہیں:
گیس کے آلات اور لائٹرز۔
پرفیومز اور بیٹریاں۔
کاربونیٹڈ ڈرنکس (بوتلیں)۔
مزید برآں، گاڑیوں کی کھڑکیاں تھوڑی سی کھلی رکھیں تاکہ ہوا گزرتی رہے۔ فیول ٹینک کو مکمل نہ بھریں اور پیٹرول ہمیشہ شام کے وقت ڈلوائیں۔ سفر کے دوران ٹائروں میں ہوا کا دباؤ (Over-inflation) حد سے زیادہ نہ رکھیں۔
سانپوں اور بچھوؤں سے ہوشیار رہیں
گرمی کی شدت کی وجہ سے زمین کے اندر رہنے والے زہریلے جانور جیسے سانپ اور بچھو اپنے بلوں سے نکل کر ٹھنڈی جگہوں کی تلاش میں گھروں اور پارکوں کا رخ کر سکتے ہیں۔ شہری اپنے صحن اور گھر کے داخلہ راستوں پر خاص نظر رکھیں۔
بجلی کے میٹر اور اے سی (AC) کا استعمال
سول ڈیفنس نے مشورہ دیا ہے کہ بجلی کے میٹر پر زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ ایئر کنڈیشنر صرف ان کمروں میں استعمال کریں جہاں ضرورت ہو اور ہر دو سے تین گھنٹے بعد اے سی کو 30 منٹ کا وقفہ دیں۔ اگر باہر کا درجہ حرارت 45-47 ڈگری ہو تو گھر کے اے سی کو 24-25 ڈگری پر رکھیں، اس سے آپ کی صحت بھی بہتر رہے گی اور بجلی کا بل بھی کم آئے گا۔
کراچی اپ ڈیٹس 24 اپنے تمام قارئین سے اپیل کرتا ہے کہ اس عوامی معلوماتی الرٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ لوگ محفوظ رہ سکیں۔


Comments
Post a Comment