سفاک ملزمان نے ڈاکٹر سارنگ کو سینے میں گولی ماری؛ مقتول گلستانِ جوہر کے نجی میڈیکل کالج میں رجسٹرار تھے، دوسری جانب گارمنٹس فیکٹری کے مالک فرزند علی زخمی، تاجروں کا بھتہ خوری کا الزام
کراچی (ویب ڈیسک): شہرِ قائد میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہو گئی ہے، جہاں مصروف ترین شاہراہ پر ایک ڈاکٹر کو ان کی اہلیہ کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیا گیا، جبکہ نیو کراچی میں ایک صنعتکار پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کر دیا گیا۔
شاہراہِ فیصل: ڈاکٹر سارنگ کا قتل
واقعہ شاہراہِ فیصل پر مہران ہوٹل کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق:
رکشے سے اتار کر قتل: 37 سالہ ڈاکٹر سارنگ اپنی اہلیہ کے ہمراہ کینٹ اسٹیشن کی جانب سے رکشے میں آ رہے تھے کہ کار سوار ملزمان نے انہیں روک کر رکشے سے اتارا اور سینے پر گولی مار دی، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
مقتول کا پس منظر: ڈاکٹر سارنگ کا آبائی تعلق بدین سے تھا اور وہ گلستانِ جوہر کے ایک نجی میڈیکل کالج میں بطور رجسٹرار خدمات انجام دے رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ واقعہ "ذاتی رنجش" کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔
نیو کراچی: صنعتکار پر حملہ
دوسری جانب نیو کراچی کے علاقے سلیم سینٹر کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 42 سالہ صنعتکار فرزند علی زخمی ہو گئے۔
پولیس تحقیقات: جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کا خول اور ٹوٹا ہوا میگزین ملا ہے۔
بھتہ خوری کا دعویٰ: نارتھ کراچی ایسوسی ایشن (نکاٹی) کے عہدیداروں نے ہسپتال پہنچ کر شدید احتجاج کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ بھتہ خوری کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان پے در پے واقعات نے کراچی کے شہریوں، ڈاکٹروں اور تاجر برادری میں شدید عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے، جس پر سول سوسائٹی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

Comments
Post a Comment