صادق آباد سے کراچی آنے والی 13 سالہ مقدس سول اسپتال میں دم توڑ گئی؛ چھوٹی بہن جیرش والدہ کے سپرد، بچی ٹائپ ون ذیابیطس کی مریضہ تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار
کراچی (ویب ڈیسک): شہرِ قائد کے علاقے بوٹ بیسن سے چند روز قبل لاوارث حالت میں ملنے والی دو سگی بہنوں میں سے بڑی بہن، 13 سالہ مقدس، دورانِ علاج سول اسپتال میں چل بسی۔ پولیس سرجن کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بچی پر تشدد یا جنسی زیادتی کے شواہد نہیں ملے، تاہم موت کی اصل وجہ کے تعین کے لیے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
واقعے کا پس منظر
گزشتہ جمعے کو پولیس کو شیریں جناح کالونی کے قریب سے دو لڑکیاں، 9 سالہ جیرش اور 13 سالہ مقدس، لاوارث حالت میں ملی تھیں۔ بڑی بہن مقدس کی طبیعت انتہائی ناساز تھی، جس پر اسے فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ پیر کے روز انتقال کر گئی۔
صادق آباد سے کراچی کا سفر: دونوں بہنیں مبینہ طور پر اپنی آنٹی کے ہمراہ صادق آباد سے کراچی آئی تھیں۔
والدہ کا بیان: بچیوں کی ماں کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتیں کہ بچیاں کس کے ساتھ کراچی آئیں، وہ انہیں صادق آباد میں تلاش کرتی رہیں۔
میڈیکل رپورٹ اور پوسٹ مارٹم
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق:
مقتولہ ٹائپ ون ذیابیطس کی مریضہ تھی اور ابتدائی طور پر موت کی وجہ شوگر لیول کا حد سے زیادہ بڑھ جانا معلوم ہوتا ہے۔
بچی کے جسم پر تشدد یا جنسی زیادتی کے کوئی نشانات نہیں پائے گئے۔
موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے کیمیکل معائنے، ڈی این اے اور ہسٹوپیتھالوجی کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔
چھوٹی بہن کے انکشافات
9 سالہ چھوٹی بہن جیرش، جسے ایدھی ہیڈ آفس سے پولیس کی نگرانی میں اس کی والدہ کے سپرد کر دیا گیا ہے، نے بتایا کہ کوئی خاتون انہیں کراچی لے کر آئی تھی اور اس نے انہیں کوئی نشہ آور چیز کھلانے کی کوشش بھی کی تھی۔
ایدھی حکام کے مطابق مقدس کی میت پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے، جو اسے تدفین کے لیے آبائی علاقے صادق آباد لے کر روانہ ہو گئے ہیں۔ پولیس اس پہلو پر تفتیش کر رہی ہے کہ بچیاں صادق آباد سے کراچی کس کے ساتھ آئیں اور انہیں لاوارث کس نے چھوڑا۔

Comments
Post a Comment