Karachi Updates 24
بریکنگ نیوز
خوش آمدید! کراچی اپڈیٹس 24 پر آپ کو ملے گی ہر پل کی باخبر رپورٹ... کراچی میں موسم خوشگوار، سمندری ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی... پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ... سندھ حکومت کا کراچی کے لیے نئے ٹرانسپورٹ منصوبے کا اعلان...

کراچی: نارتھ کراچی انڈسٹریل ایریا میں صنعتکار پر فائرنگ، فرزند علی زخمی، بھتہ خوری کا شاخسانہ قرار

 Police presence and industrial area representation reflecting the tension after the attack on the businessman

صنعتکاروں میں شدید خوف و ہراس؛ نارتھ کراچی ایسوسی ایشن کے ممبر کو 2 گولیاں لگیں، نکاٹی صدر فیصل معیز خان کا حکومت سے فوری نوٹس لینے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ


کراچی (ویب ڈیسک): شہرِ قائد میں اسٹریٹ کرائم کے بعد اب صنعتکار بھی نشانے پر آگئے ہیں۔ نیو کراچی تھانے کی حدود میں نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے اہم ممبر اور معروف صنعتکار فرزند علی پر مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔

واقعے کی تفصیلات

نکاٹی کے صدر فیصل معیز خان کے مطابق، فرزند علی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھے۔

  • زخمی کی حالت: فرزند علی کو دو گولیاں لگی ہیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر مقامی نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • صنعتکاروں کا احتجاج: فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی تاجروں اور صنعتکاروں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچ گئی اور شہر میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

بھتہ خوری کا شاخسانہ؟

نکاٹی کے صدر فیصل معیز خان نے واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ فائرنگ بھتہ خوری کا شاخسانہ لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار پہلے ہی معاشی حالات سے پریشان ہیں اور اب انہیں جان و مال کے خطرات کا سامنا ہے، جو کہ کراچی کی انڈسٹری کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

حکومت سے نوٹس کا مطالبہ

فیصل معیز خان نے وزیرِ اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ:

  1. اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ملزمان کو چوبیس گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا جائے۔

  2. صنعتی علاقوں میں پولیس گشت بڑھایا جائے اور تاجروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

  3. بھتہ خور گروہوں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کیا جائے تاکہ صنعتکار بلا خوف و خطر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔

صنعتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو وہ احتجاجاً فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔


Comments