شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے سے پہلے تجدید لازمی؛ غفلت برتنے پر بینکنگ ٹرانزیکشنز اور موبائل سروسز معطل ہو جائیں گی، نادرا کا انتباہ
اسلام آباد (ویب ڈیسک): نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر کے شہریوں کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں شناختی کارڈ کی میعاد (Expiry) ختم ہونے سے پہلے اس کی تجدید کرانے پر زور دیا گیا ہے۔ نادرا کے مطابق، شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونا صرف ایک قانونی دستاویز کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ آپ کی روزمرہ کی بنیادی سہولیات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
کون سی سہولیات متاثر ہو سکتی ہیں؟
نادرا نے واضح کیا ہے کہ اگر آپ کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) ایکسپائر ہو جاتا ہے، تو درج ذیل سہولیات فوری طور پر معطل یا متاثر ہو سکتی ہیں:
بینک اکاؤنٹس: بینکنگ قوانین کے تحت میعاد ختم ہونے پر بینک اکاؤنٹس بلاک کیے جا سکتے ہیں، جس سے رقم کی منتقلی اور اے ٹی ایم کا استعمال ناممکن ہو جائے گا۔
موبائل سمز: بائیو میٹرک تصدیق کی عدم موجودگی میں موبائل سمز کی سروس متاثر ہو سکتی ہے۔
پاسپورٹ اور سفر: بیرونِ ملک سفر یا پاسپورٹ کے حصول میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔
سرکاری مراعات: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا دیگر سرکاری سبسڈیز سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نادرا کی شہریوں کو ہدایت
نادرا حکام کا کہنا ہے کہ شہری اپنے شناختی کارڈ پر درج تاریخِ تنسیخ (Expiry Date) کو چیک کریں اور اسے ختم ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل تجدید کے عمل کے لیے اپلائی کریں۔ نادرا نے یہ سہولت بھی فراہم کی ہے کہ شہری گھر بیٹھے "نادرا پاک آئیڈنٹیٹی" ایپ کے ذریعے آن لائن بھی اپنے کارڈ کی تجدید کروا سکتے ہیں یا قریبی نادرا سینٹر سے رجوع کر سکتے ہیں۔
حکام نے مزید کہا کہ وقت پر تجدید نہ کرانے کی صورت میں شہریوں کو نہ صرف جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ ہنگامی ضرورت کے وقت شدید قانونی اور تکنیکی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

Comments
Post a Comment