لاہور میں ممتا شرمسار! سفاک سوتیلی ماں نے ’کالے جادو‘ کی آڑ میں کم سن بچی کو تشدد کرکے قتل کردیا، ہولناک انکشافات
لاہور (کرائم رپورٹر): لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن سے ایک ایسا دلخراش اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک سفاک سوتیلی ماں نے ’کالے جادو کے عملیات‘ کے دوران اپنی کم سن بچی پر وحشیانہ تشدد کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ملزمہ نے پولیس حراست میں اعترافِ جرم کرتے ہوئے ایسے ہولناک انکشافات کیے ہیں جنہیں سن کر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
واقعے کی تفصیلات اور ملزمہ کا اعترافِ جرم
ذرائع انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق، لاہور گرین ٹاؤن کی رہائشی ملزمہ نازیہ نے دورانِ تفتیش اپنی سوتیلی بیٹی فاطمہ کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمہ نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں انتہائی چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ وہ کالے جادو کے عملیات کرتی تھی اور اس دوران اس پر ’جنات کی حاضری‘ ہوتی تھی۔ ملزمہ کا کہنا تھا کہ ’جنات کی حاضری‘ بچوں پر تشدد کا تقاضہ کرتی تھی، جس کے باعث اس نے فاطمہ پر وحشیانہ تشدد کیا۔
معصوم فاطمہ پر تشدد اور موت کی وجہ
پولیس تحقیقات کے مطابق، ملزمہ نازیہ نے چند روز قبل معصوم فاطمہ کے سر پر لوہے کی راڈ سے وار کیا تھا۔ اس وحشیانہ وار کے نتیجے میں بچی کے دماغ میں گہری چوٹ آئی، جو اس کی موت کا سبب بنی۔ پولیس نے مقتولہ فاطمہ کی سگی ماں کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
دوسری بیٹی پر بھی تشدد اور میڈیکل رپورٹ
ہولناکی کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ پولیس تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ مقتولہ فاطمہ کی بڑی بہن، 8 سالہ کشف، پر بھی مسلسل تشدد کرتی رہی ہے۔ پولیس نے کشف کا میڈیکل کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تشدد کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکے اور ملزمہ کے خلاف کیس کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ملزمہ کا پس منظر اور خاندان کی صورتحال
پولیس کے مطابق، ملزمہ نازیہ نے دو سال قبل اپنے سابقہ شوہر سے طلاق لے کر اشفاق نامی شخص سے شادی کی تھی۔ ملزمہ کے اپنے سات بچے سابقہ شوہر کے پاس ہیں۔ دوسری طرف، ملزم اشفاق نے اپنی پہلی بیوی سے علیحدگی کے بعد اپنی دو بیٹیاں (فاطمہ اور کشف) اور ایک بیٹا نازیہ (دوسری بیوی) کے پاس رکھے ہوئے تھے۔ اس ہولناک واردات کے بعد، پولیس نے باقی تینوں بچوں کو حفاظتی تحویل میں لے کر ایدھی سینٹر منتقل کر دیا ہے۔
کالے جادو کا بڑھتا ہوا ناسور اور سماجی ذمہ داری
یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں کالے جادو، جہالت اور توہم پرستی جیسے ناسوروں کی جڑوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ دینِ اسلام میں کالے جادو کی سخت ممانعت ہے اور اسے کفر قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے جہاں قانون کو سختی سے اپنا کام کرنا چاہیے، وہاں سماجی سطح پر بھی شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ معصوم جانیں اس جہالت کا بھینٹ نہ چڑھیں۔
ملک بھر میں رونما ہونے والے کرائم کے واقعات اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے karachiupdates24.com وزٹ کرتے رہیں۔

Comments
Post a Comment