Karachi Updates 24
بریکنگ نیوز
خوش آمدید! کراچی اپڈیٹس 24 پر آپ کو ملے گی ہر پل کی باخبر رپورٹ... کراچی میں موسم خوشگوار، سمندری ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی... پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ... سندھ حکومت کا کراچی کے لیے نئے ٹرانسپورٹ منصوبے کا اعلان...

کراچی میں ’سفید زہر‘ کا راج: ہم سونگھ کر بتا دیں گے ملاوٹ ہے یا نہیں! سندھ ہائیکورٹ کے تاریخی ریمارکس، دودھ مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کا الرٹ

 

Karachi Sindh High Court remarks on milk adulteration and milk mafia operations in Karachi

کراچی اپڈیٹس: دودھ کی قیمتوں اور ملاوٹ پر عدالت کا سخت برہم

کراچی کے باسیوں کے لیے خالص دودھ کا حصول ایک خواب بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی میں دودھ کی قیمتوں اور دکانوں کی صفائی ستھرائی کو لے کر سندھ ہائیکورٹ میں ایک اہم سماعت ہوئی۔ جہاں ایک طرف مہنگائی کا جن بے قابو ہے، وہیں دوسری طرف دودھ مافیا شہریوں کو دودھ کے نام پر کیمیکل ملا ہوا "سفید زہر" پلانے میں مصروف ہے۔ عدالتِ عالیہ نے ریٹیلرز کی درخواست پر سماعت کے دوران ایسے ریمارکس دیے جس نے پورے شہر میں ہلچل مچا دی ہے۔

"ہمارے سامنے دودھ لائیں، ہم سونگھ کر بتا دیں گے" – عدالت کے ریمارکس

سندھ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران ایک دلچسپ اور فکر انگیز صورتحال پیدا ہوئی جب عدالت نے دودھ کی کوالٹی پر سوال اٹھایا۔ ریمارکس دیے گئے کہ: "ہمارے سامنے دودھ لے آئیں، ہم سونگھ کر بتا دیں گے کہ ملاوٹ ہوئی ہے یا نہیں۔" عدالت کا کہنا تھا کہ کراچی میں دستیاب دودھ میں بڑے پیمانے پر ملاوٹ ہو رہی ہے اور بھینس کے خالص دودھ اور مارکیٹ میں ملنے والے دودھ کا فرق اب واضح ہو چکا ہے۔

دودھ کی دکانیں سیل (Doodh ki dukanain seal) اور دکانداروں کا احتجاج

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کمشنر کراچی کے پاس قیمتیں طے کرنے کا اختیار ہے، لیکن انتظامیہ صفائی کے بہانے دودھ کی دکانیں سیل کر رہی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ جب تک سرکاری جواب نہیں آتا، دکانیں سیل کرنے کی کارروائی روکی جائے۔ تاہم، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صفائی اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے۔


مجبوری یا منافع خوری؟ کیا کم قیمت ملاوٹ کا جواز ہے؟

دورانِ سماعت وکیل نے یہ عجیب منطق پیش کی کہ اگر حکومت درست ریٹ طے نہیں کرے گی تو دکاندار "مجبوراً" ملاوٹ کریں گے۔ اس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کیا منافع کم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شہریوں کو زہر آلود دودھ پلایا جائے؟ کراچی اپڈیٹس 24 کے مطابق، دودھ کو ابالنے پر اس کی اصلیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے، لیکن اب تو کیمیکلز کا استعمال اس قدر بڑھ گیا ہے کہ عام آدمی کے لیے پہچاننا مشکل ہو گیا ہے۔

دودھ مافیا الرٹ: کراچی انتظامیہ کی ممکنہ بڑی کارروائی

عدالت نے کیس کی سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی ہے، لیکن اس دوران کمشنر کراچی اور ضلعی انتظامیہ کو دودھ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کے اشارے مل چکے ہیں۔ وہ دکاندار جو گراں فروشی اور ملاوٹ میں ملوث ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کا امکان ہے۔ کراچی کے شہری اب جاگ چکے ہیں اور سوشل میڈیا پر "کراچی اپڈیٹس" کے ذریعے اس سفید زہر کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

کراچی میں دودھ کا بحران صرف قیمتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ اب صحت کا سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے ریمارکس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ بھی ملاوٹ زدہ دودھ سے پریشان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 5 مئی کی سماعت میں حکومت کیا جواب جمع کراتی ہے اور کیا کراچی والوں کو خالص دودھ نصیب ہو سکے گا یا نہیں۔

Comments