کراچی | 11 اپریل 2026
شہرِ قائد ایک بار پھر شدید گرمی کی لپیٹ میں آنے والا ہے، جہاں موسم نے اچانک اپنا مزاج بدل لیا ہے۔ کراچی میں محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کی تازہ پیشگوئی نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ پیر تک شہر میں گرم اور خشک موسم برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ دن کے اوقات میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
درجہ حرارت 38 ڈگری تک جانے کا خدشہ
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
یہ صورتحال اگرچہ بظاہر معمول کی گرمی لگتی ہے، لیکن اصل خطرہ درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی خشکی اور شہری دباؤ ہے، جو عام زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
نمی کی شرح کم، ہیٹ ویو کا خطرہ کم مگر گرمی برقرار
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں نمی کا تناسب 20 سے 30 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث فی الحال شدید ہیٹ ویو جیسی صورتحال پیدا ہونے کا امکان کم ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کم نمی کے باوجود سورج کی تیز شعاعیں شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں۔
ہوائیں کب چلیں گی؟ موسم میں ہلکی تبدیلی کی امید
محکمہ موسمیات کے مطابق دن کے پہلے حصے میں شمال مشرقی ہوائیں چلنے کا امکان ہے، جبکہ شام کے وقت سمندری ہوائیں دوبارہ شہر میں داخل ہوں گی۔
یہ ہوائیں وقتی طور پر موسم کو کچھ حد تک بہتر کر سکتی ہیں، مگر مجموعی طور پر گرمی کا زور برقرار رہے گا۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایات
ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے:
- دوپہر 12 بجے سے 4 بجے تک غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں
- پانی اور مشروبات کا زیادہ استعمال کریں
- ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں
- بزرگ افراد اور بچوں کو خاص طور پر دھوپ سے بچائیں
گرمی کا اصل امتحان ابھی باقی؟
موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے، اور اپریل کے وسط میں درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
اس صورتحال نے شہریوں میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا کراچی ایک بار پھر سخت گرمی کے نئے ریکارڈ کی طرف بڑھ رہا ہے؟
شہریوں میں تشویش اور بحث
سوشل میڈیا پر بھی اس پیشگوئی کے بعد بحث شروع ہو گئی ہے۔ کچھ صارفین اسے معمول کی گرمی قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ شہر میں موسمی تبدیلیوں کا اثر اب واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔

Comments
Post a Comment