کراچی/میرپورخاص (ویب ڈیسک): سندھ کے شہر میرپورخاص میں میڈیکل کی ہونہار طالبہ فہمیدہ لغاری کی موت نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تیسرے سال کی طالبہ، جس کا مستقبل روشن تھا، اس کی زندگی کا چراغ گل ہونے پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ کیا یہ محض خودکشی تھی یا اسے اس انتہا تک پہنچنے پر مجبور کیا گیا؟
ہراسانی اور بلیک میلنگ کے لرزہ خیز الزامات: فہمیدہ لغاری کے ورثا نے دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کالج کا ایک بااثر ٹیچر اسے مسلسل ہراساں کر رہا تھا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ "ہماری بیٹی کو ذہنی اذیت دی گئی، اسے دھمکایا گیا اور ہراسانی کے ذریعے اس کا جینا حرام کر دیا گیا تھا"۔ ان سنگین الزامات نے میڈیکل کالجز کے محفوظ ہونے کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی (PM&DC) کا بڑا ایکشن: معاملہ میڈیا پر آنے اور عوامی غم و غصے کے بعد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) حرکت میں آگئی ہے۔ صدر کونسل پروفیسر رضوان تاج نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ نجی میڈیکل کالج سے تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ ہراسانی کے معاملے پر "زیرو ٹالرنس" پالیسی ہے اور اگر فیکلٹی کا کوئی بھی رکن قصوروار پایا گیا تو ادارے کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
کیا نظام انصاف معصوم فہمیدہ کو انصاف دلا پائے گا؟ پی ایم اینڈ ڈی سی نے صوبائی حکومت سے بھی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ پروفیسر رضوان تاج کا کہنا ہے کہ "طلبہ کی سلامتی اور ذہنی صحت ہماری اولین ترجیح ہے، کسی کو تعلیمی اداروں میں بدسلوکی یا دھمکیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی"۔
واضح رہے کہ فہمیدہ نے مبینہ طور پر گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، لیکن اب ہراسانی اور مبینہ زیادتی کے پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ موت کی اصل گتھی سلجھائی جا سکے۔
سندھ کے تعلیمی نظام پر بدنما داغ: میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی 'پراسرار موت' یا سسٹم کا قتل؟ ہراسانی، بلیک میلنگ اور درندگی کے الزامات نے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی!
میرپورخاص کے ایک نجی میڈیکل کالج میں تیسرے سال کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی اچانک اور پراسرار موت نے پورے ملک، بالخصوص تعلیمی حلقوں میں طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ ایک ہونہار طالبہ جس نے ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کا خواب دیکھا تھا، اس کی لاش ملنے کے بعد کئی ایسے سوالات نے جنم لیا ہے جنہوں نے ہمارے تعلیمی اداروں کے تقدس کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
خودکشی یا انتہائی قدم پر مجبور کیا گیا؟ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فہمیدہ لغاری نے مبینہ طور پر گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، اس کیس کی تہیں کھلتی جا رہی ہیں۔ ورثا کا الزام ہے کہ یہ محض ایک خودکشی نہیں بلکہ ایک 'سفاکانہ دھکا' ہے جو اسے اس مقام تک پہنچانے کے لیے دیا گیا۔ اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ کالج کا ایک بااثر فیکلٹی ممبر فہمیدہ کو طویل عرصے سے ذہنی طور پر مفلوج کر رہا تھا۔
ہراسانی کے لرزہ خیز انکشافات: ذرائع کے مطابق فہمیدہ لغاری کو کالج کے ایک ٹیچر کی جانب سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا۔ الزامات کی فہرست طویل اور ہولناک ہے، جس میں مبینہ طور پر بلیک میلنگ، غیر اخلاقی پیغامات اور امتحانات میں فیل کرنے کی دھمکیاں شامل ہیں۔ کیا ایک مقدس پیشے سے وابستہ شخص اتنا گر سکتا ہے؟ ورثا کا کہنا ہے کہ فہمیدہ نے کئی بار اشاروں میں اپنی پریشانی کا ذکر کیا تھا، لیکن ادارے کے دباؤ اور بدنامی کے خوف نے اسے خاموش رکھا، یہاں تک کہ اس خاموشی نے موت کی چادر اوڑھ لی۔
پی ایم اینڈ ڈی سی (PM&DC) کا متحرک ہونا اور سخت وارننگ:
واقعے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) میدان میں آگئی ہے۔ صدر کونسل پروفیسر رضوان تاج نے اس کیس کو ٹیسٹ کیس قرار دیتے ہوئے نجی میڈیکل کالج سے تمام ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور فہمیدہ کے تعلیمی ریکارڈ سمیت دیگر اہم دستاویزات طلب کر لی ہیں۔
کونسل نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ:
"اگر ہراسانی یا زیادتی کی ذرہ برابر بھی تصدیق ہوئی تو نہ صرف متعلقہ ٹیچر کو عمر بھر کے لیے نااہل کیا جائے گا بلکہ کالج کا لائسنس بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔"
سوشل میڈیا پر انصاف کی مہم: اس افسوسناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر #JusticeForFahmidha کا ٹرینڈ چل رہا ہے، جہاں صارفین مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کیس کی شفاف انکوائری کی جائے اور ان 'کالی بھیڑوں' کو بے نقاب کیا جائے جو میڈیکل کالجز میں معصوم طالبات کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ کیا فہمیدہ کو انصاف مل پائے گا یا یہ کیس بھی فائلوں کی نذر ہو جائے گا؟

Comments
Post a Comment