آبنائے ہرمز کھلنے کا اعلان: ایران اور امریکا میں جنگ بندی؛ کیا عالمی سطح پر پٹرول سستا ہونے والا ہے؟
عالمی ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ سے اس وقت کی سب سے بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس خبر کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں واضح کمی کی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔
جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی
پینٹاگون میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھل چکی ہے، تاہم امریکی افواج خطے میں موجود رہیں گی تاکہ معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گزرگاہ کو مکمل طور پر بحال کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے اور ابتدائی طور پر اسے "محدود اور کنٹرولڈ" انداز میں کھولا جائے گا۔
کیا پٹرول کی قیمتیں آدھی رہ جائیں گی؟
آبنائے ہرمز وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ 28 فروری سے اس راستے کی بندش نے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا کر رکھا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ آبی راستہ مکمل طور پر کھل جاتا ہے اور سپلائی بحال ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی آئے گی، جس کا براہِ راست فائدہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے صارفین کو پٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی کی صورت میں مل سکتا ہے۔
بحری جہازوں کی واپسی اور ماہرین کی رائے
وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق اس وقت تقریباً 1000 بحری جہاز خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ شپنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ:
اعتماد کی بحالی میں 6 سے 8 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں ان کے جہاز دوبارہ پھنس سکتے ہیں۔
انشورنس کمپنیوں نے ابھی تک خطرات کی وارننگ واپس نہیں لی۔
پاکستان میں متوقع مذاکرات
ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا حتمی فیصلہ پاکستان میں ہونے والے ممکنہ ایران امریکا مذاکرات کے بعد کیا جائے گا۔ اگر ان مذاکرات میں کسی مستقل فریم ورک پر اتفاق ہو جاتا ہے تو عالمی معیشت کے لیے یہ رواں سال کی سب سے بڑی ریلیف ہوگی۔
#StraitOfHormuz #PetrolPrice #IranUSA #KarachiUpdates24

Comments
Post a Comment