کراچی والو ہوشیار! ہسپتالوں کی غفلت سے بچوں میں خطرناک بیماری پھیلنے لگی، آغا خان کے ڈاکٹروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
سندھ میں ایم پاکس کا نیا رخ: نوزائیدہ بچوں میں منتقلی اور ہسپتالوں کی غفلت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
کراچی (صحت ڈیسک، کراچی اپڈیٹس 24): پاکستان میں ایم پاکس (منکی پاکس) کی صورتحال نے ایک نیا اور انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی میں منعقدہ ایک میڈیا راؤنڈ ٹیبل کے دوران متعدی امراض کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اب یہ موذی مرض نہ صرف مقامی سطح پر پھیل رہا ہے بلکہ نوزائیدہ بچے بھی اس کا شکار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
خیرپور سے نوزائیدہ بچوں میں کیسز کی رپورٹ
ماہرِ اطفال اور متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر فاطمہ میر نے انکشاف کیا کہ سندھ کے علاقے خیرپور سے ایسے دلخراش کیسز سامنے آئے ہیں جہاں نوزائیدہ بچوں میں ایم پاکس کی علامات دیکھی گئی ہیں۔ ان بچوں میں تیز بخار، شدید کمزوری اور جسم پر پانی سے بھرے دانوں کی شکایت پائی گئی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان میں سے بعض بچوں کی اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ وائرس اب بالغوں سے نکل کر بچوں تک پہنچ چکا ہے۔
ہسپتالوں میں ناقص انتظامات: انفیکشن کا بڑا سبب
ڈاکٹر فاطمہ میر کا کہنا تھا کہ بچوں میں اس انفیکشن کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہسپتالوں میں "کراس انفیکشن" ہے۔ ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات اور آئسولیشن وارڈز کی کمی کی وجہ سے ایک مریض کے جراثیم دوسرے مریض میں باآسانی منتقل ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ مقامات جہاں ایک ہی بستر پر دو مریضوں کو رکھا جاتا ہے، وہاں اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
ایم پاکس اب صرف بیرونِ ملک تک محدود نہیں
ماہرِ متعدی امراض ڈاکٹر فیصل محمود نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب یہ تصور غلط ثابت ہو رہا ہے کہ ایم پاکس صرف بیرونِ ملک سے آنے والوں تک محدود ہے۔ 2025 میں پاکستان میں 53 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جو زیادہ تر سفری تاریخ رکھتے تھے، لیکن 2026 کا رجحان تبدیل ہو چکا ہے۔ کراچی میں اس سال سامنے آنے والے دو کیسز میں سے ایک کا تعلق مقامی سطح (خیرپور) سے ہے، جس کا مطلب ہے کہ وائرس اب مقامی آبادی میں موجود ہے۔
علامات اور تشخیص: چکن پاکس اور ایم پاکس میں فرق
ڈاکٹر فیصل محمود کے مطابق ایم پاکس کی علامات چکن پاکس سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں، لیکن ان میں چند بنیادی فرق ہیں:
دانوں کی نوعیت: ایم پاکس کے دانے زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں اور ایک ہی وقت میں پورے جسم پر ایک ہی مرحلے (عمر) کے ہوتے ہیں۔
پھیلاؤ کا طریقہ: یہ بیماری قریبی جسمانی رابطے، متاثرہ شخص کے کپڑے یا بستر استعمال کرنے اور طویل وقت تک سانس کی بوندوں (Respiratory Droplets) کے تبادلے سے پھیلتی ہے۔
شدت: اگرچہ صحت مند افراد 2 سے 4 ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن حاملہ خواتین، نوزائیدہ بچوں اور کمزور قوتِ مدافعت والے افراد کے لیے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
علاج اور احتیاطی تدابیر
ماہرین نے واضح کیا کہ فی الوقت پاکستان میں ایم پاکس کا کوئی مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے اور مریضوں کا علاج ان کی علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کی دی گئی اہم ہدایات:
علامات ظاہر ہوتے ہی مریض کو فوری طور پر گھر کے دیگر افراد سے الگ (Isolate) کر دیا جائے۔
متعلقہ محکمہ صحت اور حکام کو فوری اطلاع دی جائے۔
ہسپتالوں میں دستانوں، ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال لازمی بنایا جائے۔
متاثرہ مریض کے زیرِ استعمال اشیاء کو ہاتھ لگانے سے گریز کیا جائے۔
پاکستان میں 2026 کے دوران بدلتی ہوئی یہ صورتحال محکمہ صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ہسپتالوں کے انفیکشن کنٹرول سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
#MpoxPakistan #HealthAlert #AgaKhanUniversity #KarachiNews #SindhHealth #MpoxSymptoms #NewbornHealth #BreakingNews #KarachiUpdates24 #PakistanHealth


Comments
Post a Comment