کراچی والو ہوشیار! شام ہوتے ہی پورا شہر اندھیرے میں ڈوب جائے گا، حکومت کا ڈھائی گھنٹے کی نئی لوڈشیڈنگ کا خوفناک اعلان، بجلی بم گرانے کی تیاری!
کراچی (خصوصی رپورٹ): کراچی والوں کے لیے بری خبروں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے تو دوسری طرف اب وفاقی پاور ڈویژن نے کراچی سمیت ملک بھر میں "پیک آورز" (شام کے اوقات) میں بجلی گل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایندھن کے عالمی بحران نے پاکستان کے توانائی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں اب شہریوں کو شدید ترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شام 5 سے رات 1 بجے تک "بلیک آؤٹ" کا خطرہ
پاور ڈویژن کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ پالیسی بیان کے مطابق، اب روزانہ شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے دوران سوا 2 گھنٹے (2.25 Hours) کی لوڈ مینجمنٹ کی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد مہنگے درآمدی ایندھن کے استعمال کو کم کرنا ہے تاکہ بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے 3 روپے فی یونٹ کے ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان میں اندھیرا
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کو گیس کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس بحران کے باعث تقریباً 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار بند ہو گئی ہے، جبکہ درآمدی گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس بھی سسٹم سے آؤٹ ہو چکے ہیں۔ حکومت نے مہنگے فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے لوڈشیڈنگ کو ترجیح دی ہے تاکہ فی یونٹ قیمت میں 8 روپے تک کے بڑے اضافے سے بچا جا سکے۔
شہری اور دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا نیا دورانیہ
صرف شام کے اوقات ہی نہیں، بلکہ مجموعی طور پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ خطرناک حد تک بڑھا دیا گیا ہے:
شہری علاقے: 8 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ۔
دیہی علاقے: 10 سے 12 گھنٹے تک بجلی بند رہے گی۔
بجلی چوری والے علاقے: یہاں تو قیامت صغریٰ کا منظر ہے، جہاں 14 سے 16 گھنٹے تک بجلی غائب رہے گی۔
پاور ڈویژن کا دعویٰ: "ہم ریلیف دے رہے ہیں"
عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف عوام اندھیرے میں ہیں اور دوسری طرف پاور ڈویژن کا دعویٰ ہے کہ جولائی سے فروری تک صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر یہ سخت اقدامات نہ کیے جاتے تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ مزید اضافہ ہو جاتا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر مقامی گیس پاور پلانٹس کو فراہم کی گئی ہے تاکہ عوام پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
کراچی کی تاجر برادری اور عوام میں تشویش
ترجمان پاور ڈویژن نے ڈسکوز (بشمول کے الیکٹرک) کو ہدایت کی ہے کہ وہ لوڈشیڈنگ کا شیڈول فوری طور پر صارفین سے شیئر کریں۔ ساتھ ہی مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر کمرشل مارکیٹیں وقت پر بند کر دی جائیں تو طلب میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ تاہم، کراچی کے شہری اس فیصلے پر سیخ پا ہیں، جن کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، اب شام کے اوقات میں بجلی بند کرنا معاشی قتل کے مترادف ہے۔


Comments
Post a Comment