کراچی میں قیامت خیز گرمی اور 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ: شہری بلبلا اٹھے، امتحانی مراکز میں طلبا بے حال
کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، آج کل اندھیروں اور شدید حبس کی لپیٹ میں ہے۔ جہاں ایک طرف سورج سوا نیزے پر آچکا ہے، وہاں دوسری طرف کے الیکٹرک (K-Electric) کی جانب سے غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، کراچی کے کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے، جس نے عوامی غم و غصے کو مہمیز دی ہے۔
کراچی میں شدید گرمی اور کے الیکٹرک کا بے رحم رویہ
کراچی میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر محسوس کیا جا رہا ہے، لیکن "فیلز لائک" (Feels Like) درجہ حرارت 45 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔ اس شدید گرمی میں بجلی کی بندش نے شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کراچی اپڈیٹس 24 کی رپورٹ کے مطابق، لیاری، اورنگی ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن، کورنگی اور ملیر جیسے گنجان آباد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ "ہم بل وقت پر ادا کرتے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں صرف پسینہ اور اندھیرا ملتا ہے"۔
امتحانی مراکز سے موصول ہونے والی دلخراش شکایات
سب سے افسوسناک صورتحال ان امتحانی مراکز کی ہے جہاں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات جاری ہیں۔ شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث طلبا کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پنکھے بند: امتحانی ہالوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے طلبا پسینے میں شرابور پرچہ حل کرنے پر مجبور ہیں۔
طبیعت کی خرابی: کئی مراکز سے طلبا کے بے ہوش ہونے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔
انتظامیہ کی خاموشی: والدین کا کہنا ہے کہ حکومت اور کے الیکٹرک کے درمیان رسہ کشی کا خمیازہ معصوم بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے سے متجاوز: کون ذمہ دار ہے؟
کے الیکٹرک کی جانب سے یہ موقف اپنایا جاتا ہے کہ "ہائی لاس" (High Loss) والے علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں میں بھی بجلی بند کی جا رہی ہے جہاں ریکوری 100 فیصد ہے۔ کراچی میں بجلی کا بحران اب محض فنی خرابی نہیں بلکہ ایک سنگین انتظامی مسئلہ بن چکا ہے۔ 12 گھنٹے کی طویل بندش نے نہ صرف گھریلو زندگی بلکہ چھوٹے کاروباروں کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
شہریوں کا احتجاج اور سوشل میڈیا پر مہم
کراچی کے مختلف علاقوں میں مشتعل شہریوں نے کے الیکٹرک کے دفاتر کے باہر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ سوشل میڈیا پر #KarachiOutages اور #KElectric کے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر امتحانی مراکز کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور رات کے اوقات میں بجلی کی بندش ختم کی جائے۔
گرمی سے بچاؤ کے لیے چند ضروری احتیاطی تدابیر
اس صورتحال میں جب بجلی دستیاب نہ ہو، شہری درج ذیل تدابیر اختیار کر سکتے ہیں:
زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔
سر پر گیلا کپڑا رکھیں تاکہ ہیٹ اسٹروک سے بچا جا سکے۔
غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔
او آر ایس (ORS) کا استعمال کریں تاکہ جسم میں نمکیات کی کمی نہ ہو۔
نتیجہ (Conclusion)
کراچی کے حالات اس وقت انتہائی تشویشناک ہیں۔ اگر حکومت سندھ اور وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا تو یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ کراچی اپڈیٹس 24 کی ٹیم اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور آپ تک ہر لمحہ کی خبر پہنچاتی رہے گی۔
Comments
Post a Comment