محبت کی آڑ میں خونی کھیل: خواجہ اجمیر نگری میں نوجوان کے قتل کے پیچھے چھپا گھناؤنا سچ سامنے آگیا
خواجہ اجمیر نگری پولیس کی بڑی کامیابی: 48 گھنٹوں میں اندھے قتل کا سراغ لگا لیا، مقتول کی بیوی مرکزی ملزمہ نکلی
کراچی اپڈیٹس 24) کراچی کے علاقے خواجہ اجمیر نگری میں 33 سالہ نوجوان ریحان کے پراسرار قتل کا معمہ پولیس نے محض 48 گھنٹوں میں حل کر لیا ہے۔ تحقیقات میں یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ مقتول کو کسی ڈکیت نے نہیں بلکہ اس کی اپنی ہی شریکِ حیات نے اپنی ماں، بھائی اور ایک قریبی دوست کے ساتھ مل کر موت کے گھاٹ اتارا۔
قتل کی لرزہ خیز منصوبہ بندی
ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان نے میڈیا کو بتایا کہ مقتول ریحان کو فجر کے وقت مسجد کے دروازے پر نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی طور پر یہ واقعہ ڈکیتی میں مزاحمت یا ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا تھا، لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج اور ٹیکنیکل انٹیلیجنس نے کہانی کا رخ موڑ دیا۔ تحقیقات کے مطابق مقتول کی بیوی صدف اپنے شوہر کو راستے سے ہٹا کر اپنے دوست شیزان سے شادی کرنا چاہتی تھی۔
کس کا کیا کردار تھا؟
پولیس کے مطابق اس قتل کی سازش میں پورا خاندان ملوث نکلا:
بیوی (صدف): شوہر کی روزمرہ روٹین اور مسجد جانے کے وقت کی مخبری کی۔
دوست (شیزان): چوری شدہ 9 ایم ایم پستول سے فائرنگ کر کے قتل کیا۔
سالا (جبران): واردات کے لیے گولیاں اور ماسک فراہم کیے۔
ساس (فاطمہ): اس پوری خونی سازش کی سرپرستی کی اور اعترافِ جرم بھی کر لیا۔
پولیس کی فوری کارروائی
پولیس نے چاروں مرکزی ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا ہے۔ ملزم شیزان اور جبران کی جائے وقوعہ کی طرف جاتے ہوئے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ بھی پولیس کے ہاتھ لگ چکی ہے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

Comments
Post a Comment