رپورٹ: اسٹاف رپورٹر | کراچی تاریخ: 10 اپریل 2026
کراچی: شہرِ قائد میں جرائم کنٹرول سے باہر ہو گئے، جہاں اب مساجد بھی محفوظ نہیں۔ نارتھ کراچی میں فجر کے وقت ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ گھات لگائے بیٹھے سفاک ملزمان نے 32 سالہ ریحان کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اللہ کے گھر سے نماز ادا کر کے باہر نکل رہا تھا۔
محبت کی شادی کا خونی انجام: 6 ماہ کا ساتھ اجڑ گیا
مقتول ریحان کی کہانی کسی فلمی داستان سے کم نہیں لیکن اس کا انجام انتہائی دردناک ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ریحان نے محض 6 ماہ قبل اس خاتون سے شادی کی تھی جس سے وہ بچپن سے محبت کرتا تھا۔ خاتون کی پہلے کہیں اور شادی ہو چکی تھی اور ان کا ایک 12 سالہ بیٹا بھی ہے، لیکن ریحان کی محبت جیت گئی اور خاتون نے پہلے شوہر سے طلاق لے کر ریحان سے پسند کی شادی کر لی۔ مگر کسے معلوم تھا کہ یہ خوشیاں صرف چند ماہ کی مہمان ہیں۔
واردات کا طریقہ: سر میں گولی مار کر ٹارگٹ کیا گیا
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ خالصتاً ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔
مقتول ریحان نارتھ کراچی سیکٹر 5-C-1 کا رہائشی تھا۔
جب وہ فاروقِ اعظم مسجد کے گیٹ سے باہر نکلا، تو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے عقب سے اس کے سر میں گولی ماری۔
ایک گولی نے ریحان کی جان لے لی اور ملزمان باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
تحقیقات کا رخ: کیا پہلا شوہر قاتل ہے؟
پولیس نے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ اس قتل کے پیچھے خاتون کا پہلا شوہر ملوث ہو سکتا ہے، جس نے انتقام کی آگ میں ریحان کو مسجد کی دہلیز پر لہو لہان کر دیا۔ واقعے کے وقت مقتول کی والدہ حیدرآباد گئی ہوئی تھیں، جنہیں بیٹے کی موت کی خبر نے جیتے جی مار دیا ہے۔
کراچی کی عوام کا سوال: جرائم کب کنٹرول ہوں گے؟
کراچی میں بڑھتا ہوا ڈاکو راج اور سرِ عام فائرنگ کے واقعات شہریوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں۔ کبھی ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل اور کبھی ذاتی دشمنی میں مساجد کے باہر خونی کھیل— کراچی والے اب خود کو اپنے ہی گھروں اور گلیوں میں غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔

Comments
Post a Comment