Karachi Updates 24
بریکنگ نیوز
خوش آمدید! کراچی اپڈیٹس 24 پر آپ کو ملے گی ہر پل کی باخبر رپورٹ... کراچی میں موسم خوشگوار، سمندری ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی... پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ... سندھ حکومت کا کراچی کے لیے نئے ٹرانسپورٹ منصوبے کا اعلان...

دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر؟ ایران کی بندرگاہیں اڑانے کی دھمکی، ٹرمپ کا 'خفیہ وار پلان' بے نقاب! Trump Iran War Plan 2026

 

Donald Trump vs Iran War Plan Strait of Hormuz Blockade Karachi Updates 24

یا سب محفوظ رہیں گے یا کوئی نہیں!" ایران کا امریکہ کو دو ٹوک جواب، خلیج میں جنگی بادل منڈلانے لگے

عالمی معیشت تباہ ہونے کا خطرہ: آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی اور ٹرمپ کا ممکنہ فوجی ایکشن

(تہران/واشنگٹن: ویب ڈیسک، کراچی اپڈیٹس 24) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری لفظی جنگ اب عملی تصادم کی صورت اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واشنگٹن کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو پورے خطے کی سلامتی داؤ پر لگ جائے گی۔

ایران کا دھماکہ خیز بیان

ایرانی حکام کے ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ، "خلیجی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے محفوظ ہوں گی یا کسی کے لیے بھی نہیں!" اس بیان نے عالمی منڈیوں میں کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز اور خلیج عمان سے دنیا کی توانائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران کے اس موقف کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی بقا کی خاطر عالمی سپلائی لائن کاٹنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

ٹرمپ کا 'خفیہ وار پلان' کیا ہے؟

دوسری جانب امریکی میڈیا نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایران کے خلاف ایک محدود لیکن خطرناک فوجی کارروائی پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پلان میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • ایران کے مخصوص فوجی ٹھکانوں پر محدود فضائی حملے۔

  • آبنائے ہرمز میں ایران کی بحری ناکہ بندی۔

  • عالمی اتحادیوں کو ساتھ ملا کر ایک نیا سمندری سیکیورٹی مشن تشکیل دینا۔

عالمی معیشت پر اثرات

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ اور ایران کے درمیان یہ تصادم شروع ہوا تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ سپلائی لائن متاثر ہونے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے، جس سے توانائی کا بدترین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔



Comments