Karachi Updates 24
بریکنگ نیوز
خوش آمدید! کراچی اپڈیٹس 24 پر آپ کو ملے گی ہر پل کی باخبر رپورٹ... کراچی میں موسم خوشگوار، سمندری ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی... پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ... سندھ حکومت کا کراچی کے لیے نئے ٹرانسپورٹ منصوبے کا اعلان...

153 سالہ پرانے قانون کا خاتمہ: پنجاب میں مسیحی برادری کے لیے شادی کی عمر 18 سال لازمی قرار، اب رات گئے بھی ہو سکے گا 'نکاح'!

 

Punjab Assembly session discussing new Christian Marriage Bill 2026



کراچی اپڈیٹس 24
ویب ڈیسک
9th april 2026

پنجاب حکومت نے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے مسیحی برادری کے ڈیڑھ صدی پرانے خاندانی قوانین کو جڑ سے بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انگریز دور کے 1872ء سے رائج 'کرسچین میرج ایکٹ' میں 153 سال بعد ایسی بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو لاکھوں مسیحی خاندانوں کی زندگیوں میں ہلچل مچا دیں گی۔ اس نئے بل کے آنے سے جہاں کئی دہائیوں پرانے مسائل حل ہوں گے، وہی شادی کی شرائط میں بھی بڑا "ٹوسٹ" پیدا کر دیا گیا ہے۔

کم عمری کی شادی پر پابندی اور 18 سال کی حد

اس نئے قانون کی سب سے بڑی اور اہم تبدیلی شادی کی عمر ہے۔ اب پنجاب میں کسی بھی مسیحی جوڑے کے لیے 18 سال کی عمر سے پہلے شادی کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ پرانے قانون میں لڑکے کے لیے 16 اور لڑکی کے لیے محض 13 سال کی عمر میں شادی کی اجازت تھی، جسے اب ختم کر کے دونوں کے لیے 18 سال کی حد لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

صرف مسیحی ہی مسیحی سے شادی کر سکے گا!

مجوزہ بل میں ایک اور بڑا دھماکا یہ کیا گیا ہے کہ اب شادی کے لیے دلہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا لازم ہوگا۔ موجودہ قانون کے برعکس، جہاں کسی ایک فریق کا مسیحی ہونا کافی تھا، اب نئے قانون کے تحت مسیحی نکاح صرف اسی صورت میں رجسٹرڈ ہوگا جب دونوں کا تعلق اسی مذہب سے ہو۔

شام 6 بجے کی قید ختم: اب جشن ہوگا آدھی رات تک!

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی دلچسپی سے تیار کردہ اس بل میں ایک دلچسپ تبدیلی یہ بھی ہے کہ اب مسیحی نکاح کے لیے وقت اور دن کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ پرانے قانون کے تحت شام 6 بجے کے بعد نکاح نہیں کیا جا سکتا تھا، لیکن اب مسیحی برادری جب چاہے اپنی خوشیوں کا جشن منا سکے گی اور رات گئے بھی نکاح کی تقریبات منعقد ہو سکیں گی۔

نادرا اور یونین کونسل میں رجسٹریشن لازمی

اب مسیحی نکاح نامہ صرف چرچ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے نادرا اور یونین کونسل کے ریکارڈ میں درج کرانا قانونی طور پر لازم ہوگا۔ اس سے پہلے رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے مسیحی جوڑوں کو وراثت اور دیگر قانونی معاملات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

پادری صاحبان کو بڑے اختیارات

اس بل کے تحت اب صرف مخصوص چرچ نہیں، بلکہ پنجاب کے تمام رجسٹرڈ گرجا گھروں کے پادری صاحبان، جنہوں نے مذہبی تعلیم حاصل کر رکھی ہو، نکاح پڑھانے کے مجاز ہوں گے۔ یہ اقدام مسیحی برادری کے لیے ایک بڑا ریلیف ثابت ہوگا، کیونکہ اب انہیں مخصوص چرچوں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔

#ChristianMarriageAct #PunjabAssembly #MaryamNawaz #MinorityRights #PakistanLaw #BreakingNews #KarachiUpdates24 #SocialReform #Equality #ChristianCommunity

Comments